.

لیبیا میں یرغمال تیونسیوں کی رہائی کے بعد وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں یرغمال بنائے گئے ایک تیونسی سفارت کار اور سفارت خانے کا ایک ملازم رہائی کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ان دونوں سفارت کاروں کو ان کے نامعلوم اغوا کاروں نے اتوار کو رہا کیا تھا اور سوموار کی صبح ایک فوجی طیارے کے ذریعے انھیں طرابلس سے تیونس لے جایا گیا ہے۔

طرابلس میں تیونسی سفارت خانے کے ملازم محمد بن شیخ کو 21 مارچ اور سفارت کار العروسی قنطاسی کو 17 اپریل کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ان کی وطن واپسی کے موقع پر صدر منصف مرزوقی ،وزیراعظم مہدی جمعہ اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ مصطفیٰ بن جعفر بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

محمد بن جعفر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کے اغوا کاروں نے ان سے اچھا سلوک کیا تھا''۔انھوں نے بتایا کہ ''انھیں اور قنطاسی کو ایک ہی مکان میں زیرحراست رکھا گیا تھا لیکن انھیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی''۔

قنطاسی نے بھی کہا کہ ان سے بُرا سلوک تو نہیں کیا گیا لیکن ان کا حراستی ماحول بہت ہی ناگفتہ بہ تھا۔تیونس واپسی کے بعد انھیں طبی معائنے کے لیے فوجی اسپتال میں لے جایا گیا ہے۔

قبل ازیں تیونسی وزیراعظم مہدی جمعہ نے ایک نیوز کانفرنس میں ان دونوں سفارت کاروں کی رہائی کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ تیونسی اور لیبی حکام کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ان کی رہائی ممکن ہوئی ہے۔

تیونسی وزیرخارجہ مونجی حامدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی عملے کے ان دونوں ارکان کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا ہے لیکن انھوں نے ان کی رہائی سے متعلق مکمل تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیونس کا لیبی حکام رابطہ تھا،اغوا کاروں سے بالکل بھی نہیں تھا اور وہ ان کی شناخت کے حوالے سے بھی کچھ نہیں جانتے ہیں۔تاہم ان کے محرکات سیاسی تھے۔

طرابلس میں متعین غیرملکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے جنگجو گروپ غیرملکیوں کو اغوا کرنے کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان کے بدلے میں دوسرے ممالک میں مقید لیبی افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔وزیرخارجہ حامدی کا بھی کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے تیونس میں دہشت گردی کے الزامات میں قید لیبی افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن انھیں رہا نہیں کیا جائے گا۔