.

'نئے کربلا کی پکار: اہل تشیع جنگ کی تیاری کریں'

ایران میں عراق کے لیے رضاکار بھرتی مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ نواز دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کی عراقی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد وزیر اعظم نوری المالکی کو بچانے کے لیے ایران میں بڑے پیمانے پر جنگجو بھرتی کرنے کی مہم جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے عراق جنگ میں حصہ لینے کے لیے عوام سے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ایران میں حکمران طبقے اور قدامت پسند اہل تشیع نے کئی روز سے عراق میں مقدس مقامات کے دفاع کے لیے شہریوں کو عراق کا رخ کرنے کی مختلف انداز میں ترغیبات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب سے عراق میں تازہ شورش برپا ہوئی ہے ایران میں پاسداران انقلاب کے عہدیداران، سخت گیر مذہبی حلقے اور امام بارگاہوں کے آئمہ وخطباء نے اپنی واعظانہ تلقین بھی عراق ہی پر مرکوز کر رکھی ہے۔

مساجد، امام باگاہوں خطباء کی تقاریر کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں رضاکار بھرتی کرنے کے لیے میلے ٹھیلے سجائے جاتے، سیمینار منعقد کیے جاتے اور ایرانیوں کو عراق کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

اسی ضمن میں عراق کی گارڈین کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کا تازہ بیان مقامی، علاقائی اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ مسٹر رضائی نے اہل ایران اور شیعہ مسلک کے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ خود کو ایک نئے کربلا اور یوم عاشور کے لیے تیار رکھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مُحسن رضائی شمال مغربی ایران کے شہرآذر بائیجان میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ عراق کی جنگ کے بارے میں انہوں نے بات کرتے ہوئے اپنے ملک کے عوام کو مخاطب کیا اور کہا کہ "دشمن جنگ کے لیے تیار ہے۔ ہمیں بھی خود کو جنگ کے لیے تیار رکھنا ہے کیونکہ ایک نیا میدان کربلا اور یوم عاشور ہمارے راستے میں ہے"۔

آذر بائیجان کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہل ایران چاہیں تو نئے کربلا کو وقوع پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسین کے چچا زاد مسلم اور ان کے ساتھیوں کے کٹے سر عراق اور شام میں دشمن کے نیزوں پر ہیں۔

مُحسن رضائی کا کہنا تھا کہ ہمیں عراق میں برپا نئے عاشور پر قطعاً خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔ ہمیں مرشد اعلیٰ [ٓایت اللہ علی خامنہ ای] کے حکم کے منتظر رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں کب اور کہاں بھیج رہے ہیں؟

ایران کی فارسی نیوز ویب پورٹل'تاب ناک' نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ محسن رضائی نے چند ایام قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ پانچ ہزار ایرانی باشندوں نے عراق میں اہل تشیع کے مراکز کے دفاع کے لیے خود کو رضاکار کے طور پر رجسٹرڈ کرایا ہے۔

ایران میں سرکاری سطح پر عراق میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے لیے مہمات چلائی گئی ہیں۔ حال ہی میں تہران، اصفہان، مشہد، شیراز اور آذر بائیجان جیسے شہروں میں عراق کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے لیے رجسٹریشن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

درایں اثناء عراق میں اہل تشیع، کرد، ترک اور آذر باشندوں کی نمائندہ تنظیموں نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ عراق کی خانہ جنگی سے خود کو دور رکھیں۔ ان تنظیموں نے ایران میں جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے جاری مہمات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عراق میں اسلحہ اٹھانا فرقہ واریت اور فساد پھیلانے کے مترادف ہو گا۔ عراق میں بسنے والی تمام اقوام برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو فرقہ وارنہ جنگ سے بچانے کے لیے متحد ہو جائیں۔