.

عراق میں امریکا کی فوجی موجودگی میں اضافہ

بغداد کے دفاع کے لیے لڑاکا ہیلی کاپٹر اور ڈرونز عراقی فوج کی مدد کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق میں اسلامی جنگجوؤں کے خطرے کے پیش نظر اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کردیا ہے اور مزید قریباً تین سو فوجیوں کو دارالحکومت بغداد میں تعینات کردیا ہے۔اس کے علاوہ بغداد کے دفاع کے لیے لڑاکا ہیلی کاپٹر اور ڈرونز بھی عراقی فوج کی مدد کو تیار ہیں۔


امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے اعلان کے مطابق جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام کے کسی حملے کی صورت میں امریکی فوجیوں کو بغداد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے دفاع کے لیے سکیورٹی کردار بھی حاصل ہوگیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یہ حکمت عملی عراق میں شہریوں سمیت تمام امریکیوں کے دفاع اور تحفظ کے لیے وضع کی گئی ہے لیکن یہ فضائی حملوں کی تیاری کی آئینہ دار نہیں ہے۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے اتوار کو دوسو فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ان کے علاوہ مزید ایک سو فوجی عراق پہنچ گئے ہیں اور ان کو بھی ہوائی اڈے پر تعینات کیا جائے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے عراق میں دو آپریشنز مراکز کے قیام کے لیے تین سو فوجی مشیروں کو تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔وہ عراقی فوج کے ساتھ مل کر اضافی امداد کا جائزہ لیں گے۔امریکا کے ایک سو اسّی فوجی مشیر پہلے ہی عراق میں موجود تھے۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکا عراق کے کرد علاقے میں بھی ایک اور مشترکہ فوجی آپریشنز مرکز قائم کرنا چاہتا ہے۔اس ضمن میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔البتہ یہ مرکز ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد صوبے دہوک میں قائم کیا جاسکتا ہے۔

فوجی سازوسامان کی فروخت

درایں اثناء وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ ''امریکا داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائِی کے لیے عراقی فوج کو جلد سے جلد ایف سولہ لڑاکا طیارے بھیجنا چاہتا ہے لیکن شیڈول کے مطابق یہ طیارے اسی سال کے آخر میں کسی وقت بھیجے جائیں گے''۔

ترجمان نے العربیہ کی نامہ نگار نادیہ بالبسی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا نے عراقی حکومت کو مدد کی پیش کش کی ہے اور اس نے مالکی حکومت کی حمایت کے لیے بہت سا فوجی سازوسامان عراق کو فروخت کیا ہے۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کو نوری المالکی کی جانب سے قومی حکومت کی تشکیل کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہ ہونے پر مایوسی ہوئی ہے۔اگر وہ ایسا کرتے تو ان کی حکومت کو طویل المعیاد کامیابی مل سکتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت عراق کے سیاسی لیڈروں سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطے میں ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مالکی کے مستقبل کا فیصلہ کرنا عراقی عوام اور سیاسی قیادت کا کام ہے۔