فرانس میں نقاب پر پابندی 'قانونی' قرار دے دی گئی

یورپی عدالت نے اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ صادر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کی پورپی عدالت نے پبلک مقامات پر چہرہ ڈھانپے کی ممانعت سے متعلق فرانسیسی قانون کو درست قرار دیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایک چوبیس سالہ دوشیزہ کی اس درخواست کو نمٹاتے ہوئے صادر کیا جس میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کو 'مذہبی آزادی' کے خلاف قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے خاتون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نقاب پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے فرانس میں پبلک مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کے قانون مجریہ 2010ء کے بعد سٹراس برگ عدالت نے اپنی نوعیت کی پہلا فیصلہ دیا ہے۔ اس قانون پر سنہ 2011ء سے عمل کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار مسلمان خاتون، جس کی شناخت نام کے تین حروف"ایس اے ایس" کے ذریعے کرائی گئی، کو قانونی معاونت فراہم کرنے والی برطانوی ٹیم نے عدالت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ نقاب پر پابندی کو امتیازی قانون قرار دیا جائے کیونکہ اس سے آزادی مذہب، اظہار اور اجتماع پر حرف آتا ہے۔

لیکن یورپین عدالت کے سب سے اعلیٰ فورم نے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ متنوع آبادی والے ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنا غیر قانونی نہیں اور نہ ہی اس سے انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

برطانوی وکیل ٹونی مومین گذشتہ برس سماعت کے دوران موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی موکلہ کو سرعام نقاب ہٹانے پر مجبور کرنا ان کی نجی اور عائلی زندگی پر حملہ اور حقارت آمیز سلوک کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ نقاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی خاتون نے تحریری گواہی میں تصدیق کی تھی کہ نقاب پہننے پر انہیں کسی مرد نے مجبور نہیں کیا اور وہ اسے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عملے کے کہنے پر اتار سکتی ہیں۔ فرانسیسی حکام حجاب پر پابندی کے حق میں یہی دو دلیلیں پیش کرتے چلے آئے ہیں۔

فرانسیسی قانون کے مطابق عوامی مقامات پر پورے چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین کو 150 یورو تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ بیلجئم اور سوئٹزر لینڈ کے کچھ علاقوں میں بھی فرانس کی دیکھا دیکھی پابندی لگا دی اور اب اٹلی اور ہالینڈ بھی ایسا ہی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

یہ فیصلہ پیرس کے مضافاتی علاقے میں بچوں کی نرسری میں نوکری سے سال 2008ء میں ہاتھ دھونے والی خاتون فاطمہ عفیف کی اپیل مسترد رد ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ فاطمہ عفیف کو سکول میں سکارف لینے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

فرانس کے سرکاری سکولوں میں سکارف، یہودی ٹوپی یا سکھوں کی پگڑی کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ ان سے مذہب کا تاثر نمایاں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں