مصر کی 'سلفی تحریک' نے سیاست سے توبہ کر لی

اصلاح معاشرہ کا کام صرف منبر و محراب تک محدود کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سلفی مسلک کی پیروکار دینی سیاسی جماعت الدعوہ السلفیہ نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اگلے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ سلفی تحریک کے مطابق کہ وہ سیاست کے بجائے اب منبر و محراب کے ذریعے اصلاح معاشرہ پر توجہ مرکوز کرے گی۔

الدعوہ السلفیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'فیس بک' کے خصوصی صفحے پر ایک بیان میں اپنے موقف کی تبدیلی کی وجوہات کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ پچیس جنوری 2011ء کے انقلاب کے بعد علماء کے بعض فتاویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی عمل ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔\

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حسنی مبارک کے نظام کے زوال کے باوجود پارلیمانی انتخابات روایتی طریقے ہی سے پر ہوں گے جو حسنی مبارک دور سے ذرا بھی مختلف نہیں ہوں گے۔ گو کہ تحریک کے ارکان اور علماء کی عوامی مقبولیت اس امر کی متقاضی ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا جائے مگر پالیسی کی تبدیلی کے بعد سیاست کو خیرباد کہہ دیا گیا ہے۔ اب تمام توجہ دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں پر مرکوز کی جائے گی۔

خیال رہے کہ تین جولائی 2013ء کو سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد الدعوۃ السلفیہ نے بھی کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کی حمایت میں رابعہ العدیہ گراؤنڈ میں دھرنا دے رکھا تھا۔ تاہم تنظیم کے جنرل سیکرٹری اور اسکندریہ میں انتظامی کونسل کے صدر الشیخ علی غلاب نے ملٹری انٹیلی جنس اور سلفی تحریک کے درمیان 'صلح' کرا دی تھی، جس کے بعد تنظیم نے رابعہ العدویہ کمپاونڈ سے دھرنا ختم کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں