اوآئی سی: نائیجیریا میں گرجا گھروں پر حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کے مسلم ممالک کی نمائندہ اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) نے افریقی ملک نائیجیریا میں اسلامی جنگجو گروپ بوکو حرام کے گرجا گھروں پر حملوں اور ان میں چھپن افراد کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں گذشتہ اتوار کو نائیجیریا کے شمال مشرقی قصبے شیبوک کے نزدیک واقع چار دیہات میں بوکو حرام کے مبینہ حملوں کی مذمت کی ہے اور تنظیم کی جانب سے نائیجیریا کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔

درایں اثناء نائیجیریا کے وزیرخارجہ بشیر امینو ولی نے کہا ہے کہ حکام اس انتہا پسند گروپ کے خاتمے کے لیے کام کررہے ہیں۔اںھوں نے او آئی سی کے مجلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت انتہاپسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

انھوں نے بوکو حرام کی جانب سے یرغمال بنائی گئی دوسو سے زیادہ طالبات کے حوالے سے کہا کہ ان کی جلد بازیابی اہم نہیں ہے بلکہ ان کی زندہ وسلامت واپسی اہمیت کی حامل ہے۔انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طالبات کی زندہ وسلامت واپسی کے لیے ان کی مدد کریں۔

بشیر ولی نے بوکو حرام کے محرکات اور مقاصد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ گم کردہ راہ لوگ ہیں اور جرائم پیشہ افراد کے گروہ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں''۔

نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے چار دیہات میں بوکو حرام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اتوار کو گرجا گھروں پر حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں چھپن افراد مارے گئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے اتوار کو گرجا گھروں پر دستی بم پھینکے تھے اور وہاں جانیں بچا کر بھاگنے والوں پرفائرنگ کی تھی۔یہ چاروں دیہات شیبوک کے آس پاس واقع ہیں جہاں بوکوحرام نے اپریل سے دوسو سے زیادہ اسکول طالبات کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ علاقہ بوکو حرام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں