.

مراکش میں علماء سیاسی میدان سے باہر!

سیاسی اصلاحات کے تحت نیا فرمان جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے مساجد کے آئمہ، خطباء اور دینی و تبلیغی سرگرمیوں میں سرگرم علماء کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کا ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ مراکشی تاریخ میں پہلی مرتبہ سامنے آنے والے اس نئے قانون کے تحت کوئی عالم دین سیاسی گروپ تشکیل دے سکے گا اور نہ ہی سیاسی موضوعات پر اسے کوئی رائے دینے کی اجازت ہو گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے دعاۃ کو مذہبی سرگرمیوں سے روک دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بادشاہ سلامت کے دستخطوں سے منظور ہونے والے شاہی فرمان کے تحت اسلامی شعائر کی پابندی کے لیے مساجد میں بھائی چارے اور برداشت کی فضاء عام کرنے کے ساتھ معاشرتی امن وسکون تباہ کرنے والے اقدامات کی روک تھام علماء کی اہم ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔

نئے فرمان میں علماء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقار، متانت، استقامت اور مروت کو اپنا شعار بنائیں اور خود کو ایسی کسی بھی سرگرمی سے دور رکھیں جس کا تعلق دنیا داری، سیاست یا حکومت کے معاملات سے ہو۔ علماء کا اصل کام دینی تعلیمات کا فروغ، فکری اور نظریاتی پختگی اور معاشرے میں رواداری کو عام کرنا ہو گا۔

قانون کی منظوری کے بعد علماء کے لیے اس کی پابندی لازمی ہو گی اور علماء کے خلاف ضابطہ قانون کی خلاف ورزی کی شکایات کے ازالے لیے جید علماء پرمشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔

خیال رہے کہ مراکش میں علماء کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی سے متعلق نیا قانون شاہ محمد ششم کی جانب سے ملک میں سیاسی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ سنہ 2003ء میں دارالحکومت رباط میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے بعد شاہ محمد ششم نے دینی اور سیاسی شعبوں میں اصلاحالات لانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔