.

جوہری معاہدہ: مغرب اور ایران کے لیے تاریخ بنانے کا موقع

2005ء میں سابق بش انتظامیہ نے جوہری سمجھوتا سبوتاژ کردیا تھا:جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور مغربی طاقتوں کے لیے مجوزہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے کرکے تاریخ بنانے کا منفرد موقع آ گیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے یہ بات ویانا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے نمائندوں کے ساتھ جمعرات کو جوہری تنازعے پر شروع ہونے والے مذاکرات سے ایک روز قبل کہی ہے۔ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

جواد ظریف نے یوٹیوب پر بدھ کو اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ''جوہری پروگرام پر ڈیل کے نتیجے میں ایک غیر ضروری بحران کا خاتمہ ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے پر توجہ مرکوز نہیں کررہے ہیں''۔اس ضمن میں انھوں نے عراق میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی مثال پیش کی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2005ء میں جب وہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار تھے تو اس وقت جوہری تنازعے پر سمجھوتا ہوسکتا تھا مگر سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے اس کو سبوتاژ کردیا تھا اور اس کے بجائے انھوں نے دباؤ اور پابندیوں کا راستہ اختیار کر لیا تھا لیکن یہ پابندیاں ایرانی عوام کو جھکا نہیں سکی ہیں۔ایسا اب ہوگا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ''ہم ایک ڈیل تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ کوئی اچھی یا بری ڈیل نہیں بلکہ قابل عمل اور پائیدار ڈیل ہوگی''۔انھوں نے کہا کہ ''ہم اس بات کی ٹھوس ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ ہمارا جوہری پروگرام ہمیشہ پُرامن رہے گا۔ہم اس مفروضے کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کی عبوری مدت کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر 20 جنوری سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور 20 جولائی کو یہ ختم ہوجائے گا۔اب ویانا میں فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اس آخری تاریخ تک بات چیت جاری رہے گی۔اگر ان کے درمیان معاہدے پر اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے تو پھر عبوری سمجھوتے کی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کی افزدوگی کی تمام سرگرمیوں کو محدود کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید اقتصادی پابندیاں بتدریج نرم یا ختم کردی جائیں گی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں چھے بڑی طاقتوں (امریکا،برطانیہ ،روس ،فرانس ،چین اور جرمنی) کی نمائندگی کررہی ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی تین مغربی ممالک ایران کو جوہری بم کی تیاری سے باز رکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو اس انداز میں محدود کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ جوہری بم بنانا چاہے تو اس کے لیے درکار ایندھن کی تیاری میں اس کو کم سے کم ایک سال کا وقت لگے لیکن روس اور چین نے اس کے بین بین موقف اختیار کررکھا ہے۔امریکا،اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادی ایران کے بارے میں اس شک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔