.

میانمار:دوسرے بڑے شہر میں فسادات کے بعد کرفیو نافذ

مانڈلے میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک مسلمان اور ایک بدھ مت کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار (برما) کے دوسرے بڑے شہر مانڈلے میں پولیس نے بدھ متوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کے بعد رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔

مانڈلے میں ملک کے اکثریتی مذہب بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان گذشتہ تین روز سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور منگل اور بدھ کی رات دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان تشدد کے واقعات میں دو افراد مارے گئے تھے۔میانمار کے حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایک مسلمان اور ایک بدھ مت ہے۔

مانڈلے میں مشتعل مظاہرین نے ہنگاموں کے دوران توڑ پھوڑ کی تھی۔شہر میں جمعرات کی صبح بھی مسلمانوں اور بدھ متوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی تھی۔گذشتہ دو روز کے دوران فریقین کے مسلح جتھوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ شہر میں کرفیو کے نفاذ کے بعد بیسیوں پولیس اہلکاروں نے گشت شروع کردیا ہے اور لوگوں نے دکانیں بند کردی ہیں۔

میانمار کے ایک سینیر پولیس افسر زا من او نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانا چاہتے تھے''۔انھوں نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا اور یہ اقدام سکیورٹی وجوہ کی بنا پر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے روہنگیا مسلمانوں اور بدھ مت انتہا پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ماضی میں بدھ متوں کو میانمار کی سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل رہی ہے۔2012ء میں انھوں نے مسلم اکثریتی مغربی ریاست اراکان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اور ان کے مکانوں ،دکانوں اور دیگر املاک کو نذرآتش کردیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ریاست میں تب نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں اٹھائیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ان میں ستانوے فی صد سے زیادہ روہنگیا مسلمان تھے۔اس سے قبل اسی سال جون میں پچھہتر ہزار سے زیادہ مسلمان کو بے گھر کرکے عارضی کیمپوں میں دھکیل دیا گیا تھا۔