.

کردستان کی عراق سے آزادی کے لیے ریفرینڈم کا اعلان

مسعود بارزانی کی کردستان پارلیمان کو آزاد الیکشن کمیشن قائم کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی نے پارلیمان سے ریفرینڈم کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے کہا ہے۔ریفرینڈم میں کردعوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ عراق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد ملک کی حیثیت سے اس سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق کردستان جمہوری پارٹی (کے ڈی پی) کے ایک رہ نما فرہاد صوفی نے بتایا ہے کہ صدر بارزانی نے علاقائی پارلیمان سے آزاد الیکشن کمیشن قائم کرنے کے لیے بھی کہا ہے جو کردستان کے علاقے میں ریفرینڈم منعقد کرائے گا۔

تاہم انھوں نے استصواب رائے کے انعقاد کے لیے کوئی نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہے۔کرد صدر نے وزیراعظم نوری المالکی کو عراق میں عدم استحکام کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم نے چھے ماہ قبل نوری المالکی کو ملک میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اس پر کوئی کان نہیں دھرے اور اب اس کے مضمرات ظاہر ہوگئے ہیں''۔

مسعود بارزانی نے کرد ارکان پارلیمان سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آج برسرزمین ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں ،یہ عراق میں مالکی کی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے''۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر بالاصرار یہ بات کہی ہے کہ کرد فورسز البيشمركہ اپنے زیر قبضہ ان علاقوں سے نہیں نکلیں گی جن پر انھوں نے گذشتہ ماہ قبضہ کر لیا تھا۔

البيشمركہ نے گذشتہ ماہ شمالی شہر کرکوک اور صوبہ نینویٰ اور دیالا کے متنازعہ علاقوں سے عراقی فوج کی پسپائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔اسلامی جنگجوؤں اور مسلح قبائل کے حملے کے بعد وزیراعظم نوری المالکی کے تحت سرکاری فوج شمالی عراق کے بیشتر شہروں اور قصبوں سے راہ فرار اختیار کر گئی تھی اور سرکاری فوجی جاتے ہوئے اپنے ہتھیار ،گولہ بارود اور گاڑیوں کو بھی چھوڑ گئے تھے۔

کرکوک اور دوسرے شمالی علاقوں میں کردوں اور عربوں کی ملی جلی آبادی ہے۔ان علاقوں کے بارے میں دس سال قبل یہ طے کیا گیا تھا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ آئین کی دفعہ 140 کے تحت ریفرینڈم کے ذریعے کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس ریفرینڈم کے انعقاد کی نوبت نہیں آئی ہے اور یہ علاقے عراق کی مرکزی حکومت اور خود مختار کردستان کی علاقائی حکومت کے درمیان متنازعہ چلے آ رہے ہیں اور دونوں ہی ان پر دعوے دار ہیں۔

کرد صدر مسعود بارزانی نے اگلے روز بھی کہا تھا کہ تیل کی دولت سے مالا مال شہر کرکوک میں حکومتِ خود اختیاری جاری رہے گی اور کرد جنگجو البيشمركہ اس شہر کے علاوہ اپنے زیرنگیں دوسرے قصبوں کا بھی دفاع جاری رکھیں گے۔انھوں نے کہا کہ ''اب اس ایشو کو حل کر لیا گیا ہے۔ہم نے دس سال تک انتظار کیا ہے کہ وفاقی حکومت متنازعہ علاقوں سے متعلق مسائل کو حل کردے گی''۔