.

افغانستان میں اتحادی حکومت نہیں بنائیں گے: اشرف غنی

صدارتی امیدوار کا بیان نیٹو اور امریکا کے لئے نیک شگون نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے صدارتی امیدوار اشرف غنی نے اپنے حریف عبد اللہ عبداللہ کے ساتھ اتحادی حکومت کے قیام کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشرف غنی نے واضح الفاظ میں ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ وہ انتخابی عمل میں آنے والے تعطل کو دور کرنے کے لیے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی جانب سے کوئی سمجھوتہ کر لینے سے متعلق قیاس آرائیوں پر تشویش کا شکار ہیں اور ان سے سوال کر رہے ہیں۔ لیکن، غنی کے بقول، ہمارا جواب واضح ہے کہ نہ ہم نے کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہم لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہے۔

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ 14 جون کو ہونے والے افغان صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے۔

لیکن ووٹوں کی گنتی کے دوران اشرف غنی کو زیادہ ووٹ پڑنے کی غیر سرکاری اور غیر مصدقہ اطلاعات کے بعد عبداللہ عبداللہ اور ان کے حامیوں نے انتخابی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گنتی کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

بائیکاٹ کے بعد سے دونوں فریق ایک دوسرے پر انتخابی عمل میں دھاندلی کرنے اور نتائج تبدیل کرانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں جس کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

انتخابی عمل میں آنے والے اس تعطل کے بعد افغانستان کے 'آزاد الیکشن کمیشن' نے انتخابات کے نتائج کا اعلان موخر کر دیا تھا جس کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان شراکتِ اقتدار کے کسی انتظام پر گفت و شنید ہو رہی ہے۔

لیکن اشرف غنی کی جانب سے ان قیاس آرائیوں کی تردید کے بعد افغانستان کے مستقبل پر چھائے غیر یقینی کے بادل ایک بار پھر گہرے ہو گئے ہیں جو افغانستان سے انخلا کے لیے پر تولتے امریکا اور نیٹو اتحادیوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں۔