.

یمنی فوج اور حوثی شدت پسندوں میں جھڑپیں، 90 ہلاک

عمران شہر میں زخمیوں کی بھرمار، اہسپتال میں جگہ کی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں علاحدگی پسند حوثی قبائل اور فوج کے درمیان خونریز تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

'العربیہ' کے نامہ نگار نے عسکری ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ روز عمران شہر کے مشرق اور جنوبی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں نوے افراد مارے گئے۔

میڈیکل ذرائع کے مطابق فوج کی ایک تازہ کارروائی میں 40 حوثی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

عمران گورنری کے اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اسپتالوں میں 20 حوثی جنگجوؤں کی میتیں اور 60 زخمی لائے گئے تھے۔ شام کو عمران کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں فوج کے جنگی طیاروں کی بماری سے پچاس افراد ہو گئے تھے۔

میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کی کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں حوثی باغی زخمی ہوئے ہیں جس کے باعث اسپتالوں میں جگہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ فوجی آپریشن کے باعث عمران اور صنعاء کے درمیان زمینی رابطے منقطع ہیں جس کے نتیجے میں تمام زخمیوں کا لوڈ چند اسپتالوں پر آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شورش زدہ ضلع عمران میں حوثیوں کے خلاف فوج کے کئی روز سے جاری آپریشن کے نتیجے میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔ فوج اور حوثیوں کے درمیان دو بدو لڑائی میں مارے جانے والے افراد کی میتیں کھلی سڑکوں پر پڑی ہیں۔

فوج کی کارروائی کے باوجود حوثی آس پاس کے علاقوں سے ضلع عمران کے وسط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ گذشتہ روز یمنی فوج نے عمران گورنری کے مشرق اور جنوب میں حوثیوں کے کئی ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں باغیوں کے کئی ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے تھے۔