.

امریکا پر جاسوسی کے الزامات 'سنگین' ہیں: مرکل

'جاسوسی شراکت کاری کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے کہا ہے کہ ایک جرمن شہری پر امریکی خفیہ ایجنسی کے لئے بطور ڈبل ایجنٹ کام کرنے کے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ یہ الزام اگر درست نکلا تو اسے شراکت کاروں کے درمیان تعاون کے اصولوں کی نفی سمجھا جائے گا۔

یہ کیس جرمنی کے امریکا کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید خرابی پیدا کرے گا۔ گذشتہ برس امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے جرمنی کی بڑے پیمانے پر جاسوسی کے انکشاف کی وجہ سے یہ تعلقات بدمزگی کا شکار ہو گئے تھے۔

ان خیالات کا اظہار جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے چین کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے ائر بس گروپ این ویز ہیلی کاپٹر ڈویژن کی جانب سے چینی کمپنیوں کو ایک سو جہاز فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی.

وائٹ ہاٶس اور امریکی دفتر خارجہ نے ابھی تک جرمنی کی بی این ڈی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے 31 سالہ ملازم کی بطور ڈبل ایجنٹ امریکہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتاری پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

انٹیلی جنس اور سیاسی ذرائع کے مطابق جرمن سراغ رساں ادارے کے ملازم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے امریکی حکام کو خفیہ سرکاری دستاویزات فراہم کیں۔

ان دستاویزات میں پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے سابق امریکی انٹیلی جنس کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات بھی شامل تھیں جن میں سنوڈن نے بتایا تھا کہ امریکا، جرمنی کی بڑے پیمانے پر جاسوسی کر رہا ہے اور اس سلسلے میں جرمن چانسلر کے فون کی بھی ٹیپ کئے جاتے رہے ہیں۔

جرمنی جیسے ملک میں خفیہ نگرانی بہت حساس معاملہ ہے. نازیوں کی گسٹاپو خفیہ پولیس اور کیمونسٹ مشرقی جرمنی کی ستاسی کے حوالے سے پرائیوسی کے حق کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔