تیونس میں 'شادی ٹیکس پر عوام نئے مخمصے کا شکار!

حکومت کی شادی بیاہ پر تیس دینار ٹیکس کی انوکھی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس میں سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنے والی حکومت بعض اوقات ایسے 'نادر' فیصلے بھی صادر کرتی ہے جو عوامی حلقوں میں پریشانی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے لیے ایک نیا موضوع بحث بھی بن جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں حکومت نے مالی سال 2014-15 کے سالانہ بجٹ میں شادی بیاہ پر ٹیکس کے نفاذ کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ گو کہ یہ بجٹ ابھی منظور نہیں ہوا۔ جسے رواں ہفتے کے آخر تک پارلیمنٹ میں بحث کیلیے پیش کیا جائے گا، تاہم عوامی حلقوں میں یہ تجویز ان دنوں بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

خیال رہے کہ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تیونس میں معاشی ابتری کے باعث غریب طبقہ سخت مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ مہنگائی کے باعث شادی بیاہ کے اخراجات لوگوں پر بھاری بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں شادی پر ٹیکس ادا کرنا ایک اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔

تیونسی کابینہ نے بجٹ تجاویز میں شامل تو کر دیا ہے تاہم حتمی منظوری کے لیے اس رواں ہفتے کے آواخر تک پارلیمنٹ میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ قانون میں نئی اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ عوام پر ٹیکسوں کا بھی اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس بجٹ خسارا پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شادی پر ٹیکس گو کہ بہت بھاری رقم نہیں ہے تاہم ملک بھر میں اس پر تندو تیز بحث جاری ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر شادی پر لڑکے اور لڑکی دونوں کے خاندانوں کی طرف سے تیس تیس دینار ٹیکس لوگوں کو شادی سے فرار پر مجبور کرنے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران تیونس میں بلوغت کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد شادی بیاہ بھی بڑھ گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کو توقع ہے کہ وہ اس 'شادی ٹیکس' کی مد میں سالانہ ایک ملین دینار جمع کر لیں گے۔

رپورٹس کے مطابق تیونس میں مردوں میں شرح بلوغت 46 اعشاریہ دو فی صد جبکہ خواتین میں 37.8 فی صد ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی اداروں کا کہنا ہے کہ شہریوں پر شادی ٹیکس گا کر شادی بیاہ کی شرح غیر معمولی حد تک متاثر ہو سکتی ہے جس کے براہ راست اثرات آبادی پر پڑیں گے۔ بڑھاپے کی شرح بڑھ جائے گی اور نوجوان کم ہوتے جائیں گے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچیس سے 34 سال کی عمر کے افراد کی نصف تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ ملک میں بالغ لڑکیوں کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ مجموعی طور پر خواتین مردوں کی نسبت 38 فی صد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں