جڑواں بہنیں 'داعشی جہاد' میں شرکت کرنے شام روانہ

والدین کی واپس برطانیہ لوٹنے کی اپیل بھی مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو برطانوی جڑواں بہنوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی صفوں میں شامل اپنے بھائی کے ساتھ ملکر داد شجاعت دینے کے لیے استنبول کے راستے شام روانہ ہو چکی ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے گریٹر مانچسٹر پولیس کے ترجمان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دونوں لڑکیاں مانچسٹر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے استنبول کے لئے روانہ ہوئیں۔ سفر کے آغاز سے ابتک لڑکیوں کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ ہے۔

مانچسٹر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ان کا بھی دونوں لڑکیوں کے ساتھ رابطہ ہے، مگر انہوں نے اپنے والدین کی وطن واپسی درخواست ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صومالیہ سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان 10 سال قبل برطانیہ آباد ہوا تھا۔

اخبار کے مطابق یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ سولہ برس کی ان دونوں لڑکیوں نے سفر خرچ کا انتظام کیسے کیا۔ حکام یہ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ شام میں جہادی عناصر نے ان لڑکیوں کو انٹرنیٹ پر ورغلایہ اور پھر ان کا سفر خرچ ادا کیا۔

برطانوی میڈیا سے بات کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکیوں کی جہاد میں شرکت کے بجائے انہیں جنگجووں کی بیگمات بنائے جانے کا امکان زیادہ ہے۔

برطانوی سیکیورٹی ماہرین کے اندازے کے مطابق تقریبا 500 برطانوی شہریوں نے شام اور عراق رخ کیا ہے تاکہ وہ اسلامی ریاست کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی اعلان کردہ اسلامی خلافت کے لئے اپنی خدمات پیش کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں