سعودی ولی عہد سے فوجی سربراہوں کی ملاقات

مسلح افواج مملکت کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں: چیف آف جنرل اسٹاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کو مملکت کی اعلیٰ فوجی کمان کے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں انھیں بتایا گیا ہے کہ مسلح افواج مملکت کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق مملکت کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے اتوار کو الریاض میں شہزادہ سلمان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ہے اور وہ انھیں ماہ صیام کی مبارک باد دینے کے لیے آئے تھے۔

ان سے ملاقات کرنے والوں میں چیف آف جنرل اسٹاف ،وائس چیف آف جنرل اسٹاف ،مسلح افواج کی مرکزی شاخوں کے کمان دار ،مسلح افواج کے اعلیٰ افسر اور وزارت دفاع کے ڈائریکٹرز جنرل شامل تھے۔شہزادہ سلمان نے اس موقع پر اللہ سے دعا کی کہ وہ سب کی اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مدد فرمائیں۔انھوں نے فوجی افسروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ''آپ ہماری مسلح افواج کا ہراول دستہ ہیں جو مملکت کی سرحدوں کا تحفظ کررہی ہیں''۔

ایس پی اے کے مطابق اس موقع پر چیف آف جنرل اسٹاف نے کہا کہ ''ہرکوئی مادر وطن کے دفاع اور شاہی احکامات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور مسلح افواج ہمہ وقت احکامات کی پاسداری کے لیے چوکس ہیں''۔

سعودی ولی عہد سے مسلح افواج کے سربراہان کی یہ ملاقات یمن کی سرحد پر القاعدہ کے جنگجوؤں کے سعودی سکیورٹی چوکی پر حملے کے دوروز بعد ہوئی ہے۔اس حملے میں ایک یمنی فوجی اور سعودی سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے تھے۔

گذشتہ ماہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے پڑوسی ملک عراق میں جاری تشدد آمیز کارروائیوں کے پیش نظر مملکت کے دفاع کے لیے تمام ممکن اقدامات کی ہدایت کی تھی۔عراق کے شمالی صوبوں میں جنگجو تنظیم دولت اسلامی کے مسلح دستوں نے وزیراعظم نوری المالکی کے تحت سرکاری فوج کو ماربھگایا ہے اور خلافت کے نام سے اپنی عمل داری قائم کر لی ہے۔داعش کی ان کارروائیوں پر سعودی عرب اور دوسرے پڑوسی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم مالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کو اس ابتر صورت حال کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں