.

افغانستان میں خودکش حملہ، نیٹو فوجیوں سمیت 16 ہلاک

طالبان نے پروان صوبے میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام کے مطابق مشرقی افغانستان کے صوبے پروان ایک طالب خودکش بمبار نے فوج کی پٹرول پارٹی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کی زد میں آ کر چار نیٹو فوجیوں سمیت 16 شہری مارے گئے۔طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیٹو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس [ایساف] کے چار فوجی دشمن کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔" بیان میں نیٹو کی پالیسی کے مطابق یہ نہیں بتایا گیا کہ مرنے والے فوجیوں کا تعلق کن ملکوں سے تھا۔

پروان کے گورنر کے ترجمان وحید صدیقی نے خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ حملے میں دس افغان شہری اور دو پولیس والے ہلاک ہوئے تھے۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان کی منگل کے روز ہونے والی خودکش کارروائی میں امریکی فوج کی اسپیشل فورسز کے 15 اہلکار ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ افغانستان میں سیاسی ابتری اور صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سامنے آنے والے نتائج پر امیدواروں کے عدم اطمینان کی فضا میں کیا گیا۔

افغانستان میں اس وقت تقریبا 50٫000 نیٹو فوجی تعینات ہیں۔ نیٹو فوجیوں کی یہ تعداد 2011 میں 150٫000 تھی۔ نیٹو کا مشن اس سال کے آخر تک اپنا کام مکمل کر کے واپس لوٹ جائیگا۔ اگر نئے افغان صدر نے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کئے تو امریکی فوج کے 10٫000 اہلکار مزید ایک سال تک افغانستان میں رہیں گے۔