.

عراق میں ہلاک ایرانی ایلیٹ فورس کا کرنل سپرد خاک

دو ہفتوں میں ایران کے تین اہم فوجی افسروں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں وزیراعظم نوری المالکی کے دفاع میں باغیوں سے بر سر جنگ ایرانی پاسداران انقلاب کی ایلیٹ فورس کا کرنل کمال شیرخانی بھی مارا گیا ہے جسے ایران میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

دو ہفتوں کے دوران عراق میں ہلاک ہونے والے سینیئر ایرانی افسران کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ چند روز قبل کیپٹن علی رضا مشجری اور پائلٹ شناعت علم داری مورجانی بھی عراقی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی میتیں بھی ایران لائی گئیں جہاں انہیں ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

ایرانی میڈیا میں کرنل کمال شیرخانی کی تصاویر کے ساتھ اس کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرنل شیر خانی سامراء شہر میں اہل تشیع کے مقدس مقامات کے دفاع پر مامور تھا، جہاں عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے ایک "ہاون" راکٹ حملے میں پانچ جولائی کو مارا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سامراء میں ہلاکت کے بعد کرنل شیرخانی کی میت تہران لائی گئی جہاں گذشتہ سوموار کے روز اسے آبائی شہر لواسان میں پورے فوجی اعزازو اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

فارسی نیوز ویب پورٹل" زویکرد" کے مطابق مقتول کرنل شیرخانی پاسداران انقلاب کے سینیئر افسر رضاکار غار برزی" کا قریبی ساتھ تھی۔ غار برزی گذشتہ برس شام میں باغیوں کے حملے میں کام آ گیا تھا۔

ایرانی میڈیا میں کرنل شیرخانی کی جاری کردہ تصاویر میں انہیں پاسدارن انقلاب کے زیرانتظام ایلیٹ فورس کی فوجی وردی میں دکھایا گیا ہے۔ مقتول ان دنوں ایلیٹ فوس کی "صابرین" یونٹ سے وابستہ تھے۔ قدامت پسند ایرانی اخبارات نے کرنل شیرخانی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے "شہید" قرار دیا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ شیرخانی نے دفاع اہل بیت رسول میں اپنی جان دی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عراق میں ہلاک ہونے والے دونوں ایرانی عہدیداران ایلیٹ فورس کی"صابرین" یونٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں عراق میں اہل تشیع کے مزارات اور دیگر مقدس مقامات کی حفاظت کی آڑ میں بغداد بھیجا گیا تھا۔

قبل ازیں ایرانی خبر رساں اداروں نے کیپٹن علی رضا مشجری کی تصاویر جاری کرتے ہوئے اس کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عراق میں مقدسات کی دفاع میں جان قربان کرنے والے کیپٹن مشجری پہلے ایرانی سینیئر فوجی افسر تھے۔

خیال رہے کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ عراق میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا مرتکب نہیں ہوا اور کسی دوسرے ملک کی فوجی مداخلت کو بھی قبول نہیں کرتا تاہم ایلیٹ فورس کے تین افسروں کی ہلاکت نے تہران سرکار کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ ایران کا یہی دعویٰ شام کی خانہ جنگی کے بارے میں بھی ہے لیکن گذشتہ تین برسوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کئی سپاہی اور افسر شام میں بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔