الشباب کا صومالی صدر کے محل پر حملہ اور دفتر پر قبضہ

صومالی عہدے دار کا بیشتر حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

صومالیہ میں حکومت کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم الشباب نے منگل کو دارالحکومت موغادیشو میں صدارتی محل پر حملہ کیا ہے اور شدید فائرنگ کے بعد صدر کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ الشباب کے جنگجوؤں کے حملے کے بعد صدارتی محل سے دھماکوں کی تین آوازیں سنائی دی ہیں۔الشباب کے ترجمان عبدالعزیز ابو مصعب نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمارے کمانڈوز نام نہاد صدارتی دفتر میں موجود ہیں اور کٹھ پتلی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر ہمارا کنٹرول ہوچکا ہے''۔

صدارتی محل میں موجود ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جنگجو صدارتی محل کے احاطے میں داخل ہوگئے ہیں اور اس وقت وقفے وقفے سے ان کا سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہورہا ہے''۔اس عہدے دار نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں میں بہت سے مارے گئے ہیں لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں