.

ایران، روس کے اجرتی قاتل عراقی فضائیہ کے ہوا باز بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ہفتہ پیشتر عراق میں لڑاکا طیارے کے ایک پائلٹ شجاعت علم داری موجانی کی باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق وزیر اعظم نوری المالکی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوج کے زیر استعمال روسی ساختہ "سخوئی" طیاروں کے پچیس ہوا باز ایران اور روس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا عراق سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تاہم خود المالکی اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے عراقی پائلٹ ہی اڑا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز عراقی باغیوں نے ایک لڑاکا جہاز مار گرایا تھا۔ جہاز کا ایرانی ہوا باز شجاعت علمداری مورجانی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ عراقی فضائیہ کے ہوا بازوں کے ایرانی اور روسی ہونے کے بارے میں یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مالکی سرکار کے زیر استعمال "سخوئی" جنگی جہازوں کے روسی ساختہ ہونے پر شک ظاہر کرتے ہوئے بعض میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا کہ انہیں ایران میں تیار کیا گیا۔

یاد رہے کہ خلیج کی پہلی جنگ کے دوران جب بڑی تعداد میں عراقی طیارے، ایران جا اترے تو اس وقت کے صدر صدام حسین نے ملٹری کالج کے زیر اہتمام ہوا بازی کی تعلیم و تربیت روک دی تھی۔ اس دور میں عراقی فضائیہ کے جو ہواباز رہ گئے تھے وہ اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اس لیے ان کی خدمات نہیں لی جا سکتی ہیں۔

تاہم سنہ 2003ء میں سقوط بغداد کے بعد ایک مرتبہ پھر عراق نے اپنے ہواباز تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے پہل یہ پائلٹ مبینہ طور پر ایرانی ساختہ طیاروں یا روس کے "سخوئی" جہازوں کو اڑانے کے لیے تیار کیے گئے۔ باغیوں کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جس طرح "سخوئی" طیاروں کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح انہیں اڑانے والے ہوا بازوں کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔ ایرانی پائلٹ شجاعت علم داری مورجانی کے قتل کے بعد یہ تاثر عام ہوا ہے کہ تہران کے کئی دوسرے پائلٹ بھی براہ راست نہیں تو کم سے کم عراقی ہوابازوں کی معاونت ضرور کر رہے ہیں۔

عراق کے حکومت نواز میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی نے روسی ساختہ پرانے ماڈل کے 12 "سخوئی" جنگی طیارے 500 ملین ڈالر کے عوض خریدے، جنہیں اندرون ملک شورش پر قابو پانے اور باغیوں کی سرکوبی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس نے سنہ 1975ء میں پہلی بار یہ طیارہ متعارف کرایا اور 1981ء میں افغانستان جنگ میں اس کا پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا تھا۔

تکنیکی طور پر یہ طہارہ اپنے ہدف کو 2.5 کلومیٹر کے فاصلے سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر اس سے زیادہ فاصلے پر ہے تو ہدف کو نشانہ بنانا مشکل ہے۔ سخوئی طیاروں کی مدد سے جو میزائل داغے جاتے ہیں بلیک مارکیٹ میں ان کی قیمت ساٹھ سے اسی ہزار امریکی ڈالر تک ہے۔ باغیوں کے زیر کنٹرول موصل، الانبار اور صلاح الدین شہروں میں ان طیاروں کے ذریعے نہایت بلندی سے بمباری کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان طیاروں سے کی گئی بمباری زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی ہے۔