.

"ریاض پر داعش کی حمایت کے الزامات بے بنیاد ہیں"

مملکت کے خلاف پروپیگنڈے پر سعودی سفارتخانے کا مذمتی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے برطانوی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی گئی تھی کہ ریاض، دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی حمایت اور اس کے جنگجوٶں کو مالی تعاون فراہم کرتا ہے۔

لندن میں سعودی سفارتخانے نے گذشتہ روز جاری کردہ بیان میں ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا کہ "مملکت، داعش کے پرچم تلے خونریزی کی مرتکب دہشت گرد کسی تنظیم کو مالی، اخلاقی یا کوئی بھی مدد فراہم نہیں کر رہا."

بیان میں مزید کہا گیا کہ"سعودی عرب کے اس معاملے پر اپنا موقف کو کئی بار واضح کر چکا ہے مگر برطانوی ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ 'غلط' اور 'گمراہ کن' اور 'توڑ مڑور' کر دوبارہ انہی الزامات کا اعادہ کر رہا ہے۔"

"ہم برطانوی اور عالمی ذرائع پر زور دیتے ہیں کہ وہ دہشت گرد تنظیم داعش کے تنظیمی ڈھانچے اور اسے مالی تعاون فراہم کرنے والے سوتوں کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد علاقائی صورتحال کو درست اور معروضی تناظر میں پیش کریں. ہماری میڈیا سے درخواست ہے کہ الزام کو حقیقت بنا کر پیش کرنے سے پہلے اس تصدیق کر لی جائے۔"

بیان کے مطابق "سعودی عرب سمجھتا ہے کہ شام میں بین الاقوامی برادری کی عدم دلچسپی کی وجہ سے دہشت گردوں سے منسلک نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا جبکہ ریاض نے 'فرینڈز آف سیریا' کے توسط سے صرف شامی اپوزیشن کی مدد کی۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ"سعودی عرب نے فرینڈز آف سیریا کے ذریعے اس اعتدال پسند شامی اپوزیشن کی مدد کی جس میں شامل تمام گروپ یک آواز ہو کر ملک میں ایسی سیاسی تبدیلی چاہتے تھے جس کا منتہی بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ تھا۔"

گذشتہ مارچ میں سعودی عرب نے داعش، اخوان المسلمون، حزب اللہ کی سعودی شاخ اور القاعدہ سے مرعوب گروپ النصرہ فرنٹ پر پابندی لگا کر انہیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا تھا۔

داعش کی عراق اور سعودی عرب سرحد کے پاس کارروائیوں میں اضافے کے بعد سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مملکت کے تحفظ اور اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔