.

امریکا: بیوی پسند کا کھانا نہ پکانے پر قتل

قاتل بوڑھے کو کم از کم 18 سال جیل کی ہوا کھانا ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بوڑھے امریکی نے رات کا کھانا تیار نہ کرنے پر اپنی 66 سالہ تیسری بیوی کو قتل کر کے عدالت سے 18 سال تک جیل میں رہنے کی سزا پا لی ہے۔

70 سالہ نور حسین تقریبا 30 سال قبل اچھی زندگی تلاش میں پاکستان سے امریکا گیا تھا جہاں پہنچنے کے بعد اس نے ایک گیس سٹیشن پر ملازمت کر لی اور امریکا کا ہی ہو کر رہ گیا۔ اسی دوران امریکا نے اسے شہریت دے دی اور وہ امریکی شہری بن گیا۔

معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ نے اپنے میاں کے لیے ان کی پسند کا عشائیہ تیار کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر ''باذوق'' بوڑھے نور حسین کو جوانوں سے بھی زیادہ غصہ آ گیا اور دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ بعدازاں بیوی کو قتل کر دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اپریل 2011 میں نیویارک کی مشہور آبادی بروکلین میں پیش آیا جہاں کے دونوں میاں بیوی رہائشی تھے۔

نور حسین نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ کو لکڑی کی چھڑی سے زدوکوب کی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ نور حسین کے مطابق اس کی اہلیہ اس کی عزت نہیں کرتی تھی۔ اور اس نے بکرے کے گوشت کی جگہ مسور کی دال بنا رکھی تھی۔

نور حسین کی ہمسائی سفیدہ خان کے مطابق دونوں میاں بیوی نور حسین اور نذر کے درمیان اس سے پہلے بھی کئی بار جھگڑا ہو چکا تھا اور ایک آدھ مرتبہ اس نے بیچ بچاو بھی کرایا تھا۔

پڑوسن کے مطابق جس روز یہ واقعہ پیش آیا اس روز بھی نور حسین کی چلانے اور شور کرنے کی آواز آئی تھی۔ اسی طرح نذر کے کراہنے کی آواز بھی آئی تھی۔

امریکی قانون کے مطابق جیل میں اٹھارہ سال گذارنے کے بعد نور حسین پیرول پر رہائی حاصل کر سکتا ہے بصو رت دیگر اس کی صحت اور عمر کو دیکھا جائے تو خدشہ ہے کہ جیل سے مر کر ہی نکل سکے گا۔