.

'دی مسیج' کی ڈبنگ میں ایرانی ٹی وی کی تحریف

بعض اہم شخصیات اور کرداروں کے نام حذف کردیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹی وی نے اسلامی تاریخ کے حوالے سے مشہور فلم ''دی میسج'' (پیغام) کی فارسی ڈبنگ میں بعض اہم شخصیات اور فلم کے ہیروز کے ناموں میں غیر پیشہ وارانہ تحریف کا ارتکاب کیا ہے اور اس طرح رائے عامہ کو جھوٹی معلومات کے ذریعے گمراہ کرنے کی بودی کوشش کی ہے۔

عرب پروڈیوسر مصطفىٰ العقاد کی دنیا بھر میں ریکارڈ بزنس کرنے والی فلم 'دی مسیج' کا کئی زبانوں میں سب ٹائٹل ترجمہ اور ڈبنگ ہو چکی ہے۔ ایران میں 'دی میسج' فلم میں کی جانے والی غیر پیشہ وارانہ تحریف اور اضافوں کا انکشاف پروڈیوسر حسین دھباشی نے کیا ہے جو ایران کی پریذیڈنسی سے منسلک سینٹر فار اسٹرٹیجک ریسرچ میں محقق کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

'دی میسج' میں کی جانے والی من پسند ایرانی تبدیلیوں کا پردہ چاک کرنے والے حسین دھباشی کے چشم کشا مضمون پر ایران اور دنیا بھر میں بچث جاری ہے جسے ایرانی رضاکاروں نے سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا ہے۔

ڈبنگ کرنے والے عملے نے 'دی مسیج' میں ایسے بیانات اور اضافے کیے ہیں جو شیعہ حوالوں سے ہم آہنگ ہیں۔ انھوں نے متن میں شیوخ اور ہیروز کے نام تبدیل کردیے ہیں تاکہ تاریخ اسلامی کو شیعہ روایات کے تناظر میں پیش کیا جا سکے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام حذف

'دی میسج' کی فارسی ڈبنگ میں پہلی ڈنڈی جس مقام پر ماری گئی ہے، جہاں ابو طالب حضرت زید سے ان لوگوں سے متعلق دریافت کرتے ہیں جنھیں غار حرا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا علم ہوا۔ 'دی میسج' کے فارسی ڈبنگ ایڈیشن کے مطابق حضرت زید جواب دیتے ہیں:"ان کی اہلیہ خدیجہ اور آپ کے بیٹے علی'' ۔۔۔ جبکہ 'دی میسج' کے اصلی ایڈیشن میں حضرت زید جواب دیتے ہیں کہ"خدیجہ، علی اور ان کے دوست ابوبکر" ۔۔۔۔ ایرانیوں نے فارسی ڈبنگ میں حضرت ابوبکر کا نام ہی حذف کر دیا ہے۔

ایک دوسرے سین میں جہاں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر رات کو سوتے ہیں، وہاں ان کی شان میں اضافی عبارت شامل کی گئی ہے جبکہ فلم کے عربی اور انگریزی ایڈیشنز میں فارسی ڈبنگ والے الفاظ شامل نہیں۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا نام تبدیل

تیسری جگہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد آذان کے آغاز کے سین میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ "مسجد میں کچھ کمی ہے جس کی تکمیل پر اردگرد کے لوگ اس میں جمع ہو سکیں۔" فلم کے فارسی ایڈیشن کے مطابق عمار بن یاسر نے حضرت حمزہ سے کہا کہ "مؤمن کی آواز میں اللہ کے لیے اذان دی جائے۔جیسا کہ علی بن ابی طالب نے پہلی مرتبہ کعبہ میں اذان دی۔" فلم کے اصل ایڈیشن میں حضرت عمار کہتے ہیں کہ "مؤمن کی آواز میں نماز کے لیے اذان دی جائے، جیسا کہ عمر بن الخطاب اور مسلمانوں کے گروہ نے کیا۔" واضح رہے کہ فارسی ڈبنگ میں اس جگہ پر بھی حضرت عمر بن الخطاب کا نام حذف کر دیا گیا اور ان کی جگہ علی بن ابی طالب کا نام شامل کیا گیا ہے۔

ایرانی رضاکاروں نے 'دی مسیج' فلم کے فارسی ایڈیشن میں اس غیر پیشہ وارانہ تحریف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی ٹی وی کے کار پردازوں کے دماغ پر سوار فرقہ وارانہ سوچ کی عکاس ہے، جس میں وہ اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ انھوں نے فلموں میں بیان کردہ تاریخی واقعات کو بھی جھٹلانا شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے ایران کا سرکاری ٹی وی، ریڈیو کارپوریشن اور دیگر سرکاری ذرائع ابلاغ مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دائیں بازو کی انتہا پسند شخصیات کی براہ راست نگرانی میں کام کرتے ہیں، لہٰذا ان اداروں کا اپنے سرپرستوں کی منشاء کے بغیر کسی کام کی انجام دہی بعید از خیال ہے۔