برطانوی معلمہ کو قتل کرنے والے شاگرد کا اقرار جرم

عدالت قاتل کی نفسیاتی کیفیت کا جائزہ لینے کے بعد سماعت شروع کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے ایک کالج میں جماعت کے کمرے میں اپنی معلمہ کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ناخلف نوعمر شاگرد نے عدالت میں اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔

اس سولہ سالہ لڑکے کے وکیل رچرڈ رائٹ نے جمعہ کو بتایا ہے کہ ''اس لڑکے نے لیڈز کی شاہی عدالت میں ہسپانوی زبان کی ٹیچر این میگوائر کوغیر قانونی طور پر قتل کرنے کی ذمے داری قبول کر لی ہے لیکن اس نے اقرار جرم پر اپیل دائر نہیں کی ہے''۔

اس لڑکے کو ویڈیو لنک کے ذریعے لیڈز کی کراؤن کورٹ میں پیش کیا گیا ہے لیکن قانونی وجوہ کی بنا پر اس کا نام خفیہ رکھا جارہا ہے۔عدالت اب اس کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں رپورٹ تیار کررہی ہے۔اس کے بعد نومبر میں اس کے خلاف معلمہ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگا۔

اکسٹھ سالہ این میگوائر برطانوی شہر لیڈز میں کارپس کرسٹی کیتھولک کالج میں ہسپانوِی زبان وادب کی استاد تھیں۔ان کے ناخلف شاگرد نے 28 اپریل کو جماعت کے کمرے میں ان کی گردن پر چاقو کے وار کیے تھے جن سے وہ جانبر نہیں ہوسکی تھیں۔وہ گذشتہ چالیس سے اس کالج میں پڑھا رہی تھیں اور وہ تدریسی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا ارادہ کررہی تھیں کہ اس دوران انھیں خون میں نہلا دیا گیا۔واقعہ کے وقت ان کے قاتل کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔

1996ء کے بعد برطانیہ کے کسی تعلیمی ادارے اور جماعت کے کمرے میں یہ پہلا قتل تھا۔تب ڈن بلین کے ایک اسکول میں ایک مسلح شخص نے قتل عام کیا تھا اور ا س نے فائرنگ کرکے سولہ بچوں اور ان کے استاد کو قتل کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں