حزب اللہ کے زیرنگرانی علاقے میں بھنگ کی پیداوار میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کے کنٹرول والے علاقے میں بھنگ (حشیش) کی پیدوار میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے لیکن لبنانی حکومت یا فوج بھنگ کی کاشت کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات کرتی نظر نہیں آتی ہے۔

لبنان کی وادی بقاع میں قبل ازیں بھنگ کی پیدوار عام نہیں تھی لیکن پڑوسی ملک شام میں گذشتہ ساڑھے تین سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے اس علاقے میں بھنگ کی کاشت اور پیدوار میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

ڈیلی بیسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق:''مقامی سیاست دان ،پولیس اور لبنانی فوج اس امر سے آگاہ ہے اور بیروت میں حکام بھی اس بارے میں جانتے ہیں لیکن کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔بھنگ کی زیادہ تر کاشت کو حزب اللہ کنٹرول کررہی ہے''۔

شام میں خانہ جنگی سے قبل لبنانی فوج نے مبینہ طور پر بھنگ کی کاشت والی اراضی پر چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں لیکن گذشتہ دو سے تین سال کے دوران فوج نے سرحدوں کی سکیورٹی پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کار بڑی دیدہ دلیری سے بھنگ کی کاشت کررہے ہیں۔اس کا اندازہ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بعلبک سے تعلق رکھنے والے ایک کاشت کار کی اس بات سے کیا جاسکتا ہے جس کا کہنا ہے :''پولیس اور فوج اگر چاہیں بھی تو وہ مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے''۔

امریکی یونیورسٹی بیروت میں سیاسیات کے پروفیسر اوہینس جیوکجان کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک کھلا راز ہے۔ بھنگ کے ان کاشت کاروں کا نیٹ ورک اپنے کھیتوں کے تحفظ کے لیے بہت مسلح ہے۔وادی بقاع اور الہرمل میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت اور فوج دخل اندازی نہیں کرسکتی ہے''۔

منشیات کے اسمگلر مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر قبضہ بندرگاہوں اور بد امنی کا شکار شام کے ذریعے لبنان سے مارجوانا اور اپنی بھںگ کی پیدوار کو بیرون ملک پہنچاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق لبنان سے منشیات کی بھاری مقدار اردن میں پہنچائی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں