راکٹ نہ پھینکیں، جنگ بندی کرانے کو تیار ہیں: اوباما

امریکی صدر کی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ فون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر رابطہ کر کے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کی پیش کش کی ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق صدر اوباما نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے''امریکا حالیہ کشیدگی ختم کرانے اور نومبر 2012 والی جنگ بندی کی بحالی کے سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔ ''

اس سے پہلے نومبر 2012 میں بھی دوطرفہ جنگ بندی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور مصر کی کوششوں سے ممکن ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر آٹھ روز تک جاری رہنے والی بمباری رک گئی تھی۔

اب تک تازہ بمباری کے نتیجے میں 85 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ صدر اوباما نے اس تشویشناک صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا '' یہ بڑی افسوسناک بات ہے اور خدشہ ہے کہ اس میں اضافہ ہو گا، اس لیے فریقین کو چاہیے کہ انسانی جانیں بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں۔''

واضح رہے اب تک اسرائیلی طیاروں نے بمباری کرتے ہوئے غزہ میں 900 سے زائد اہداف کو نشانہ بنا یا ہے۔ اوباما نے اس موقع پر نیتن یاہو کے ساتھ بات کرتے ہوئے اسرائیل کے حق دفاع کا اعتراف کیا اور اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کی ۔

اوباما نے تین نوعمر اسرائیلیوں کی اغواء کےبعد ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران ایرانی جوہری پروگرام بھی زیر بحث آیا اور صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو 20 جولائی کی ڈیڈ لائن کے بارے میں آگاہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں