اقوام متحدہ کی اسرائیل، حماس سے جنگ بندی کی اپیل

اسرائیل کی براہ راست مذمت نہ سعودی مندوب کا شدید اعتراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے ایک متفقہ بیان میں کشیدگی کو ختم کرنے، امن کو بحال کرنے اور امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل کا حملہ شروع ہونے کے بعد یہ سلامتی کی جانب سے پہلا بیان جاری ہوا ہے پہلے کونسل کے اراکان کا ردِ عمل مختلف تھا۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل نے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیل کی واضح مذمت کرے اور فلسطینیوں کے بین الاقوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر عالمی ادارے میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے قراردار میں اسرائیل کی براہ راست مذمت سے گریز پر شدید اعتراض کیا۔

فلسطینی مندوب کا کہنا تھا کہ "غزہ پر اگر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ سیکیورٹی کونسل میں نئی قراردار کا مسودہ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہید ہونے والے 78 فیصد عام شہری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل عالمی فورم کے بیان پر عمل نہیں کرتا تو دوسرے آپشنز کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔"

سعودی مندوب نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل بین الاقوامی برادری کی کال پر کان دھرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل کا بیان اسلامی ملکوں کی تنظیم کی امنگوں کا آئینہ دار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل نے قرارداد کا احترام نہ کیا تو ہم عالمی فورم سے زیادہ سخت اقدام کی سفارش کریں گے۔

ادھر برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وہ ویانا میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی، فرانسیسی اور جرمن ہم منصبوں سے غزہ میں جنگ بندی کرانے سے متعلق معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایک بیان میں ولیم ہیگ نے کہا کہ سنہ 2012ء کی طرز پر جنگ بندی معاہدے کرانے کے لئے بین الاقوامی برادری کو فوری اور مربوط طریقے سے حرکت میں لانا ہو گا۔ ولیم ہیگ نے مزید کہا کہ وہ اس مقصد کے لئے جرمنی کے فرانک والٹر اشٹائن مائر، فرانس کے لاراں فابیوس اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ویانا میں جاری اجلاس میں بات کریں گے۔

درایں اثنا غزہ پٹی کے علاقے میں فلسطینی عسکریت پسندوں اور اسرائیل کے مابین موجودہ خونریز تنازعے سے متعلق مشوروں کے لیے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس پرسوں پیر کے روز قاہرہ میں ہو رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق عرب لیگ کے موجودہ صدر ملک کویت کا مطالبہ ہے کہ تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس فوراﹰ بلایا جانا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تازہ ترین تنازعے پر عرب لیگ نے ابھی تک کوئی مربوط ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں