.

غزہ پراسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پوپ فرانسیس کے زیر قیادت غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے دعائیہ تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا سے انڈونیشیا تک ہزاروں افراد نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں نکالی ہیں اور غزہ کے مظلوم ومحصور مکینوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے ویٹی کن سٹی میں ہزاروں افراد کے ساتھ خاموش دعائیہ تقریب میں شرکت کی ہے اور مقدس سرزمین میں جنگ کے خاتمے کی دعا کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ منگل کو غزہ پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور آج اتوار کو اس نے زمینی چڑھائی بھی کردی ہے۔اس کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک سو ستر فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔صہیونی فوج کی جارحیت میں شدت کے ساتھ دنیا بھر میں اس کے خلاف عوامی غیظ وغضب میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قریباً تین ہزار افراد نے اتوار کو ٹاؤن ہال کے باہر مظاہرہ کیا ہے اور اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔وہ ''فلسطین کو آزاد کرو'' ،''غزہ کو آزاد کرو'' کے نعرے لگا رہے تھے۔انھوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر''شیم شیم اسرائیل'' لکھا تھا۔

آسٹریلیا کی گرین پارٹی کے سینیٹر لی ریہانون نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اسرائیل غزہ پر بمباری سے شہریوں کو نشانہ بنانا رہا ہے۔یہ بہت ہی شرمناک ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں''۔

دنیا کے سب سے گنجان آباد مسلم ملک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں قریباً پانچ سو افراد نے فلسطینیوں کے حق میں ریلی نکالی ہے۔انھوں نے فلسطینی پرچم اور اسرائیلی جارحیت میں شہید بچوں کی تصاویر والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

ہانگ کانگ میں مقیم مسلم کمیونٹی کے افراد سمیت تین چار سو لوگوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی ہے۔انھوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں نعرے بازی کی اور نہتے شہریوں پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کی۔مظاہرین فلسطینیوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

ویٹی کن میں دعائیہ تقریب

درایں اثناء ویٹی کن سٹی کے سینیٹ پیٹرز اسکوائر میں رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے غیر علانیہ خاموش دعائیہ تقریب کی قیادت کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔انھوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی دعا کی۔

پوپ اپنے جھروکے سے نمودار ہوئے اور انھوں نے اپنے مختصر بیان میں مقدس سرزمین (فلسطین) میں جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے مسلسل عبادات جاری رکھنے کی تلقین کی۔انھوں نے کہا:''وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کی 8 جون کو اسرائیلی اور فلسطینی صدور کے ساتھ مشترکہ عبادت رائیگاں چلی گئی ہے''۔

انھوں نے لوگوں پر زوردیا کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے سے بھی گریز کریں کہ تشدد اور نفرت کی ڈائیلاگ اور مفاہمت پر جیت ہوگئی ہے۔پوپ نے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں غزہ میں رونما ہونے والے الم ناک واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔