.

ووٹوں کی پڑتال تک نئے افغان صدر حلف برداری ملتوی

دونوں امیدوار افغان صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے افغانستان کے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی جانچ پڑتال کرانے کا اعلان کیا ہے تاکہ افغان صدارتی امیدواروں کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔

ہفتے کی شب کابل میں دونوں افغان صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کی معیت میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے اعلان کیا کہ ووٹوں کی تصدیق اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں کی جائے گی اور یہ کام آئندہ 24 گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ووٹوں کی تصدیق کا عمل کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے جس کے باعث نئے افغان صدر کی دو اگست کو ہونے والی تقریبِ حلف برداری بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔

مسٹر جان کیری کا کہنا تھا کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کی درخواست پر جانچ پڑتال کا عمل حد درجہ احتیاط کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق انجام دیا جائے گا جس میں انتخاب میں ڈالے گئے ایک ایک ووٹ کی تصدیق کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں امیدواروں نے ووٹوں کے تصدیق کے عمل میں مکمل تعاون کرنے اور اس عمل کی تکمیل کے بعد سامنے آنے والے نتائج کو تسلیم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جان کیری نے کہا کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے ووٹوں کی جانچ پڑتال کرانے پر اتفاق کر کے انتخابی عمل کو معتبر بنانے اور سیاسی تعطل کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

امریک وزیر خارجہ جمعہ کو علی الصباح کابل پہنچے تھے جہاں انہوں نے مسلسل دو روز تک دونوں افغان صدارتی امیدواروں، صدر حامد کرزئی اور دیگر مقامی و بین الاقوامی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ عجلت میں ترتیب دیا گیا تھا جس کا مقصد افغانستان کے صدارتی انتخاب کے نتائج پر دونوں امیدواروں کے اعتراضات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کو دور کرنا ہے۔

صدارتی انتخاب کے 14 جون کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں 80 لاکھ رائے دہندگان نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔ انتخاب میں اشرف غنی اور عبد اللہ عبداللہ کے درمیان دو بدو مقابلہ تھا۔

افغانستان کے خودمختار الیکشن کمیشن نے رواں ہفتے انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق اشرف غنی کو 56.44 فیصد جب کہ عبداللہ عبداللہ کو 43.56 ووٹ ملے ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق اشرف غنی کو اپنے حریف پر 10 لاکھ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ لیکن سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ نے نتائج کے اعلان سے قبل ہی انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔