.

الجزائر : بم دھماکے میں سات فوجی ہلاک

وزارتِ دفاع نے فوجیوں پر حملے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے مغرب میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں تین فوجی اور مقامی ملیشیا کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

الجزائر کی وزارت دفاع نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ بم دھماکا دارالحکومت الجزائر سے چارسو چالیس کلومیٹر مغرب میں واقع علاقے سیدی بالعبس میں ہوا ہے۔فوجیوں کے ساتھ جاں بحق ہونے والے رضاکار دیہی محافظ فورس کے ارکان تھے۔الجزائری حکومت نے 1994ء میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف جنگ کے زمانے میں یہ فورس تشکیل دی تھی۔

الجزائری وزارت دفاع نے فوجیوں پر اس بم حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی مجرمانہ کارروائیوں سے دہشت گرد گروپوں کو کچلنے کے لیے فوج کے عزم میں اضافہ ہوگا۔

اپریل میں شورش زدہ علاقے قبائلی میں اسلامی مغرب میں القاعدہ کے حملے کے بعد یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا ہے۔اس حملے میں گیارہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔حملے کا نشانہ بننے والے فوجی صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے موقع پر اپنے فرائض انجام دینے کے بعد بیرکوں کو واپس آرہے تھے۔

الجزائر میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اسلامی مغرب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو قبائلی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف اب بھی برسرپیکار ہیں۔1990ء کے عشرے میں خانہ جنگی کے دوران فوج کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں نے سنہ 2001ء کے بعد یہ تنظیم قائم کر لی تھی۔الجزائری فوج کے ایک بیان کے مطابق اس سال اب تک جھڑپوں میں چھپن اسلامی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔