.

امریکا کا اسرائیل کو غزہ پر زمینی جارحیت پر انتباہ

وائٹ ہاؤس کا بمباری میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر اسرائیل کی مذمت سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں زمینی دراندازی اور جارحیت پر انتباہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مزید شہریوں کی جانیں خطرات سے دوچار ہوجائیں گی۔

وائٹ ہاؤس نے سوموار کو پہلی مرتبہ اپنی آلہ کار صہیونی ریاست کو یہ انتباہ جاری کیا ہے لیکن اس نے غزہ پر اسرائیل کے جارحانہ فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادتوں پر کچھ نہیں کہا اور نہ اسرائِیل پر کسی قسم کی تنقید کی ہے بلکہ اسرائیلی جارحیت کی بہ انداز دیگر تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ (صہیونی) حکومت کو راکٹ حملوں کے جواب میں اپنے شہریوں کے دفاع کا ''حق'' حاصل ہے اور یہ اس کی ''ذمے داری'' ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا کہ ''کوئی بھی زمینی چڑھائی کو دیکھنا نہیں چاہتا ہے کیونکہ اس سے مزید شہری خطرات سے دوچار ہوجائیں گے''۔

مسٹر ایرنسٹ نے کہا کہ واشنگٹں کو شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش لاحق ہے اور اس کا فریقین سے مطالبہ ہے کہ وہ ان کو کم سے کم کریں لیکن انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ کیا اسرائیل فوجی طاقت کا مناسب استعمال کررہا ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

امریکی صدر کے ترجمان نے اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے فلسطینی تنظیم حماس کو غزہ میں شہریوں کی اموات اور مشکلات کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور اس پر زوردیا کہ وہ راکٹ چلانے بند کردے کیونکہ ان سے اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس کے ساتھ ہی ساتھ امریکا کو فلسطینی شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش لاحق ہے ،اسی لیے ہم اسرائیل کی سیاسی قیادت اور فلسطین کے لیڈروں پر زوردے رہے ہیں کہ وہ سرحد کے دونوں جانب شہریوں کے تحفظ اور بہتری کے لیے ہر ضروری اقدام کریں''۔

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر گذشتہ منگل سے جاری بمباری کے نتیجے میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت ایک سو بہتر افراد شہید ،ایک ہزار دوسو پچاس سے زیادہ زخمی اور سیکڑوں عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں ایک بھی یہودی نہیں مرا ہے لیکن اس کے باوجود ان راکٹوں کی ہلاکت آفرینی اور ان سے یہودیوں کی جانوں کو لاحق خطرات کا بڑھا چڑھا کر واویلا کیا جارہا ہے اور ان راکٹ حملوں کو اسرائیل کی ننگی جارحیت کی حمایت کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔