افغانستان:صوبہ پکتیکا میں کار بم دھماکا،89 افراد ہلاک

کابل میں افغان صدارتی محل کے میڈیا سنٹر کے دو ارکان کی بم حملے میں ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں نواسی افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق پکتیکا کے ضلع ارگون میں خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری گاڑی ایک مصروف بازار اور مسجد کے نزدیک دھماکے سے اڑا دی ہے۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ایمبولیس کے ذریعے صوبائی دارالحکومت شاران منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بم دھماکے میں بیالیس افراد زخمی ہوئے ہیں اور بیس دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔صوبہ پکتیکا افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔

قبل ازیں دارالحکومت کابل کے مشرقی حصے میں منگل کی صبح سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک مسافر منی وین تباہ ہوگئی ہے اور اس میں سوار دو مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔اس وین میں صدارتی محل کے میڈیا دفتر کے سات ملازمین سوار تھے اور وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔دھماکے میں وین میں سوار ڈرائیور سمیت باقی پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستنکزئی نے کہا ہے کہ بم مرکزی شاہراہ کے وسط میں نصب کیا گیا تھا اور اس کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو جاری کردہ ایک بیان میں اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

واضح رہے کہ سڑک کے کنارے نصب کیے جانے والے بم افغان مزاحمت کاروں کا مہلک ہتھیار ہیں اور وہ اس کے ذریعے افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔طالبان جنگجوؤں نے اس سال کے آخر تک افغانستان سے تمام غیرملکی فوج کے انخلاء سے قبل اپنے حملے تیز کررکھے ہیں اور وہ افغان اور غیرملکی فورسز کو ان حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں