طرابلس میں لڑائی کے بعد مصراتہ کا ہوائی اڈا بھی بند

دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی بندش کے بعد لیبیا بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا نے دارالحکومت طرابلس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد مغربی شہر مصراتہ کا ہوائی اڈا بھی پروازوں کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا ہے۔

لیبیا کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ملک کے تیسرے بڑے شہر کے ہوائی اڈے کو بند کرنے کا فیصلہ فنی وجوہ کی بنا پر کیا گیا ہے کیونکہ تمام مغربی ریجن کا ہیڈکوارٹر طرابلس کے ہوائی اڈے پر واقع تھا۔اس کی بندش کے بعد مصراتہ کے ہوائی اڈے کی بندش بھی ناگزیر ہوگئی تھی۔

طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعینات الزنتان ملیشیا پر اتوار کو حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے اس کو تین روز کے لیے بند کردیا تھا۔لیبیا کی وزارت کے ایک عہدے دار کے مطابق متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلامی جنگجوؤں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور انھوں نے الزنتان گروپ کو ہوائی اڈے اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے نکال باہر کرنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ منظم اور جدید ہتھیاروں سے مسلح الزنتان گروپ وزارت دفاع کے دائرہ کار میں آتا ہے لیکن اس نے خودسر باغی جنرل خلیفہ حفتر کی اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ائیرپورٹ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ لیبیا اس وقت بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے اور تین روزہ بندش میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔لیبیا کے دو مشرقی شہروں بائدہ اور تبروک میں دو ہوائی اڈے ابھی کھلے ہوئے ہیں اور وہاں اندرون ملک پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم حکومت کے ایک فیصلے کے تحت غیرملکی لیبیا کے مشرقی حصے میں واقع ہوائی اڈوں پر نہیں اترسکتے ہیں۔

لیبیا کی مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ باغی جنرل خلیفہ حفتر کے زیرکمان ملیشیا کے مشرقی شہر بن غازی میں مئی کے وسط میں اسلامی ملیشیاؤں کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد کیا تھا۔لیبیا کی عبوری حکومت نے حفتراور ان کی ملیشیا کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے جبکہ ان کے اسلام پسند ناقدین ان پر مسلح فوجی بغاوت کا الزام عاید کررہے ہیں مگر وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

خلیفہ حفتر قذافی دور میں فوج میں جنرل رہے تھے۔وہ قریباً دوعشرے تک امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار چکے ہیں اور وہ 2011ء کے اوائل میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دوران امریکا سے لیبیا لوٹے تھے۔ان پر تب قذافی حکومت نے امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور اب ان کے متحارب جنگجو گروپ بھی انھیں امریکی ایجنٹ اور سی آئی اے کا آلہ کار قرار دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں