داعش کا برطانوی ریکروٹنگ ایجنٹ مبینہ طور پر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی ایک وڈیو میں مغربی مسلمان نوجوانوں کو عراق اور شام میں جہاد کی دعوت کی دعوت دینے والے سکاٹش نژاد جہادی کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ محاذ جنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

خطے میں لڑنے والے داعش کے جنگجوئوں نے اپنے ٹویٹر اکائونٹس کے ذریعے سے بتایا کہ عبدالرقیب رمادی قصبے میں عراقی سرکاری فوج کے ساتھ جاری لڑائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کے علاقے ابردین سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ عبدالرقیب کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھی کہ عراقی فوج کے سپیشل یونٹ نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا.

رقیب نے ابو البراء کے نام سے انتہا پسند گروپ داعش میں شمولیت اختیار کی تھی اور دوسرے افراد کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا : "اگر آپ اللہ کے لئے کوئی چیز قربان کرتے ہیں تو اللہ آپ کو اس چیز سے 700 گنا زیادہ اجر دے گا۔"

پورٹس مائوتھ سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ ابو دجانہ المہاجر نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے سے تصدیق کی تھی کہ امین بغداد سے تقریباً 75 میل مغرب میں واقع رمادی قصبے کے نزدیک جنگ کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

المھاجر نے لکھا تھا کہ"تقریبا دو ماہ قبل میں حلب میں تھا اور ٹریننگ شروع کرنے کا انتظار کرنے والے مہاجرین کے ساتھ کچھ وقت گزار رہا تھا۔ اسی دوران میں بہت سی مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملا جن میں سے دو مہاجر برطانیہ سے تعلق رکھتے تھے۔"

"الرقہ میں ابھی ایک گھنٹا قبل ہی میں اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک تیونسی جہادی سے ملا۔ اس نے مجھے اطلاع دی کہ ان دو برطانوی جہادیوں میں سے ایک ابو البراء رمادی میں عراقی سپیشل فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔ وہ بہت ہی عاجز اور متقی شخص تھے جو کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اسلامی ریاست میں آئے۔ اللہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے۔"

رقہ شہر داعش کی خلافت کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن رمادی سنی اکثریتی شہر ہونے کے باوجود عراقی حکومتی فورسز کے قبضے میں ہے۔ بغداد کی جانب سے سنی ملیشیائوں کے مقابلے میں شیعہ رضاکاروں کے استعمال سے ملک میں کسی بھی فرقہ وارانہ جنگ کے چھڑجانے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

عراق میں جاری اس بحران کی وجہ سے غیر جانبدارانہ طور پر اس خبر کی تصدیق کیا جانا ممکن تو نہیں ہے مگر وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسے عراق میں ایک برطانوی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی وزارت اس سلسلے میں متاثر ہونے والے کسی بھی خاندان سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

امین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا خاندان بنگلا دیش سے ابردین منتقل ہو گیا تھا جہاں ان کے والدین نے کئی سال تک ریسٹورانٹ چلایا اور اس کے بعد وہ واپس بنگلادیش چلے آئے۔ مگر امین ابردین میں ہی مقیم رہے۔ اس کے بعد وہ کئی سال تک نوکریاں تبدیل کرتے رہے۔

ان کے دوستوں کے مطابق ابردین میں امین فٹ بال اور کرکٹ کے بہت شوقین تھے اور بالکل عام لوگوں کی طرح میوزک اور باہر جانے کا شوق رکھتے تھے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق"برطانیہ عراق اور شام میں دہشت گردی کے بڑھنے پر گہری تشویش رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی وجہ سے پورے خطے اور برطانیہ کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ برطانیہ شام اور عراق کے زیادہ تر حصے میں سفر کرنے کے خلاف ہے اور جو کوئی بھی ان علاقوں کا سفر کرتا ہے وہ اپنے آپ کو سخت خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں