مراکش: القاعدہ کا 'داعش' کے خلیفہ کی بیعت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغرب اسلامی اور دوسرے شمال افریقی ملکوں میں سرگرم شدت پسند تنظیم القاعدہ نے دولت اسلامی عراق وشام [داعش] اور اس کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

مغرب اسلامی المعروف مراکش کی القاعدہ نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ تنظیم صرف ڈاکٹر ایمن الظواہری کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہوئے انہی کی اطاعت کی پابند ہے۔ ان کے علاوہ کسی دوسرے لیڈر کی 'بیعت' نہیں کی جا سکتی ہے۔ مغرب اسلامی کی القاعدہ کا عراق اور شام کے علاقوں پر خلافت کے دعوے دار خلیفہ البغدادی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ اپنے شیخ اور امیر ایمن الظواہری کے حکم کی پابند ہے اور انہی کی بیعت کو ضروری خیال کرتی ہے۔ ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت ہماری گردنوں پرمذہبی فریضہ اور شرعی ذمہ داری ہے۔ ہم اس کی کسی صورت میں خلاف ورزی نہیں کر سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت جہاد پر بیعت، مسلمان ممالک کی آزادی، ان میں اسلامی شریعت کے نفاذ اور خلافت راشدہ علی منہاج النبوۃ کے قیام پر بیعت ہے"۔شمال اور مغربی افریقا میں سرگرم القاعدہ نے دولت اسلامی عراق وشام کی جانب سے 'اعلان خلافت' کی شدید مذمت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا بغیر کسی صلاح مشورے اور مجاہدین کی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر بھلا

اسلامی خلافت کا اعلان کیسے ممکن ہے؟

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجاہدین کے حقیقی رہ نماؤں کے بغیر کسی قسم کی خلاف قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ طالبان اور ان کے امیر ملا محمد عمر اس خلافت میں کہاں ہیں۔ الشیخ الظواہری سے کب مشورہ کیا گیا۔ پوری دنیا میں پھیلی القاعدہ کی دیگر تنظیموں کی قیادت کہاں ہے؟"۔

بیان میں دنیا بھر میں سرگرم تمام نمائندہ جہادی تنطیموں بالخصوص القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری اور "داعش" کے خلیفہ ابوبکر البغدادی پر زور دیا گیا کہ وہ میڈیا میں کھیل تماشا لگانے کے لیے ایک پرچم تلے متحد ہو جائیں اور جہادی قوتوں کو منتشر ہونے سے بچائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں