مراکش میں داعش جوائن کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

ابتک 1122 مراکشی شہری انتہا پسند تنظیم میں شامل ہوئے: وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی افریقا کے عرب ملک مراکش کی حکومت نے 1122 شہریوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام [داعش] میں شمولیت کی تصدیق کی ہے۔

مراکشی وزیر داخلہ محمد حصاد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ سو بائیس شہری"داعش" کے پرچم تلے عراق اور شام کے 'محاذ جنگ' پر جا چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مراکشی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک مقیم 2000 مراکشی باشندے داعش کے نظریات سے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں لڑائی کے دوران 200 شہری جاں بحق اور 128 کو وطن واپسی پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایوان کو داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے مراکش میں "داعش" کے جنگجوؤں کی مختلف ذمہ داریوں پر تعیناتی کا انکشاف کیا اور کہا کہ داعش نے مراکش میں اپنا نیٹ ورک وسیع کرتے ہوئے جنگجوؤں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اس ضمن میں شرعی قاضی، مالیاتی کمیٹی کا سربراہ، ترکمان پہاڑی علاقوں کا نگران اور مراکش میں داعش کی سرگرمیوں کی میڈیا کوریج کا انچارج مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے داعش کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مراکش کی حساس تنصیبات پر داعش خود کش حملے کر سکتی ہے۔ اگر داعش کے خودکش بمباروں کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی تو حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ نیز داعش دیگر ہم خیال دہشت گرد گروپوں کو بھی مراکش میں اپنا کارروائیاں تیز کرنے پراکسا رہی ہے۔

رباط حکومت کےایک ذریعے کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں "داعش" کے پرچم تلےلڑنے والے جنگجوؤں کی واپسی پر گرفتاری کے بعد ملک کو لاحق دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے یں۔ داعش نے اپنے جنگجوؤں کی گرفتاریوں پررباط حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اور شدت پسند کسی بھی وقت مراکش میں کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوؤں کے دھمکی آمیز آڈیو پیغامات بھی سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری پر مراکش میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں