.

مصر:جنسی حملوں میں ملوث 7 افراد کو سزائے عمر قید

مجرموں نے عوامی اجتماعات کے دوران خواتین پر جنسی حملے کیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں اجتماعات کے دوران خواتین پر جنسی حملوں کے الزامات میں گرفتار سات افراد کو قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ان سات افراد پر خواتین پر مجرمانہ حملوں کے چار مختلف واقعات کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان میں جون میں صدر عبدالفتاح السیسی کی حلف برداری کے موقع پر میدان التحریر میں ایک خاتون پر سرعام جنسی حملے کے واقعہ میں ملوث مجرم بھی شامل ہیں۔

بدھ کو عدالت کی کارروائی براہ راست نشر کی گئی ہے۔جج نے سات افراد کو قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ان میں سے تین افراد کو جنسی ہراسانی کے ایک سے زیادہ حملوں میں ملوث ہونے کے جرم میں متعدد مرتبہ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں اور دو کو بیس ،بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان تمام مجرموں کو مصر میں حال ہی میں نافذ کیے گئے انسداد ہراسیت کے قانون کے تحت پہلی مرتبہ سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔مصری صدرعبدالفتاح السیسی نے جون میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد جنسی ہراسیت کے خاتمے کے لیے اس نئے قانون پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کی ہدایت کی تھی۔اس قانون کے تحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث مجرموں کو پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور ان پر بھاری جرمانہ بھی عاید کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مصری خواتین ایک عرصے سے انفرادی یا اجتماعی ہراسیت کا شکار ہیں لیکن 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے خواتین کو انفرادی طور پر اورعام اجتماعات میں ہراساں کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔عبدالفتاح السیسی کی جون کے اوائل میں صدارتی محل میں حلف برداری کے موقع پر میدان التحریر میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے متعدد شرم ناک واقعات پیش آئے تھے۔

اقوام متحدہ کی گذشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 99 فی صد زیادہ مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔مصری خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے خواہ روایتی اسلامی لباس پہنا ہو یا مغربی طرز کے کپڑے زیب تن کیے ہیں،انھیں ہر دوصورتوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔