.

یمن: القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں نے ڈاک خانہ لوٹ لیا

مزاحمت پر پولیس اہلکار قتل، 20 لاکھ یمنی ریال لوٹ کر لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضرموت میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں نے ایک ڈاک خانے پر حملہ کرکے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ہے اور وہاں سے بیس لاکھ ریال ( دس ہزار ڈالرز) لوٹ کر لے گئے ہیں۔

یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے منگل کی رات حضرموت کے قصبے حرا میں ڈاک خانے پر حملہ کیا تھا اور ان کی فائرنگ کا نشانہ بننے والا پولیس اہلکار اس کے پہرے پر مامور تھا۔

حضرموت ہی کے ایک اور شہر قطن میں موٹر سائیکل پر سوار القاعدہ کے دو مشتبہ جنگجوؤں نے فائرنگ کرکے ایک شہری کو ہلاک اور اس کے ایک رشتے دار کو زخمی کردیا ہے۔تاہم یمنی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نے اس شخص کو حملے کا نشانہ کیوں بنایا ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ یمن کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں فعال ہے اور اس سے وابستہ جنگجو سکیورٹی فورسز اور اپنے مخالف عام شہریوں پر حملوں کے علاوہ لوٹ مار بھی کرتے رہتے ہیں۔ان جنگجوؤں نے بہت سے یمنیوں کو قبیح جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں بھی موت سے ہم کنار کردیا ہے۔

القاعدہ سےوابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران یمن کے جنوبی صوبوں میں تیل کی تنصیبات ،سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں پر بیسیوں حملے کیے ہیں۔ امریکا القاعدہ کی اس تنظیم کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ قراردیتا ہے۔

اس تنظیم کے جنگجوؤں نے 2011ء میں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مرکزی حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑںے کے بعد جنوبی صوبے ابین میں اپنی عمل داری قائم کرلی تھی۔تاہم بعد میں یمنی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کوابین اور دوسرے جنوبی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا۔