ایرانی جوہری پروگرام، قابل بھروسہ راستہ دکھائِی دیا ہے: اوباما

جوہری معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کیے جانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' قابل بھروسہ راستہ '' دکھائی دیا ہے۔ اس لیے اتوار تک کی طے شدہ ڈیڈ لائن سے سے زیادہ وقت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

اوباما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا '' ہماری ٹیم ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گی، نیز ہمارے دوست بھی ضروری حد تک مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔

امریک صدر نے ایران کی اس موقع پر تعریف کرتے ہوئے کہا '' ایران نے چھ ماہ کے دوران اپنے وعدے پورے کیے ہیں تاہم ابھی خلاء کو پورا کرنے لے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔''

واضح رہے بدھ کے روز وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ '' ایران نے حیران کن حد تک مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔''

تاہم وائٹ ہاوس کے ترجمان جش ارنیسٹ نے اس بات کا جواب دینے سے معذرت کر لی کہ ایرانی جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے 20 جولائِی کی دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جا رہی ہے۔

دریں اثناء سفارتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن آگے بڑھانے پر عبوری اتفاق پایا جاتا ہے۔ لیکن ارنیسٹ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ترجمان وائٹ ہاوس نے کہا صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کے روز ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں باہم تبادلہ خیال کیا ہے۔

مغربی سفارتکاروں کے مطابق اس بارے میں فیصلے کا جمعہ کے روز امکان ہے۔ کہ 20 جولائی کے بعد بھی ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے۔

ویانا میں جاری جوہری مذاکرات سے متعلقہ ممالک کے ذرائع کا کہنا ہے امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکراتی عمل ستمبر میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں