تیونس: 'دہشت گردوں' کے حملے میں 14 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونسی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ الجزائر کے سرحدی علاقے جبل چامبی میں دو فوجی چوکیوں پر حملوں کے نتیجے میں چودہ فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان رشید بوہولا نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں چودہ فوجی ہلاک جبکہ بعض حملہ آوروں کے بھی جوابی کارروائی میں مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بوہولا نے بتایا کہ یہ تصادم بدھ کی شام کو اس وقت ہوا جب دو دہشت گرد گروپوں نے تیونسی فوج کی دو چوکیوں پر مشین گنوں اور راکٹوں سے حملہ کر دیا۔

تیونسی سرکاری نیوز ایجنسی ٹی اے پی نے بتایا ہے کہ تیونسی فوج اسلام پسند جنگجوئوں کو ملک سے نکالنے کے لئے آپریشن کر رہی ہے۔

گذشتہ برس جولائی میں بھی تیونسی فوجیوں کو علاقے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی تیونسی فوج القاعدہ سے منسلک ایک گروپ کے خلاف آپریشن کر رہی تھی۔

تیونسی حزب اختلاف کے ایک سرکردہ سیاستدان محمد براہمی کے قتل کے بعد ہونے والے اس حملے میں آٹھ فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس قتل کی وجہ سے تیونس میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

'اسلامی مغرب میں القاعدہ' نامی گروپ نے پہلی بار تیونس میں ہونے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان حملوں میں ایک حملہ گذشتہ ماہ مئی کے دوران وزیر داخلہ کے گھر پر حملہ میں ملوث تھا۔ ابھی تک کسی گروپ نے بدھ کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں