.

ننھے فلسطینیوں کی شہادت کا عینی شاہد رپورٹر سبکدوش

این بی سی نے نمائندے کو ہٹانے کا جواز اس کی سلامتی بتایا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ پر اسرائیلی بمباری سے پیدا شدہ صورت حال کو کور کرنے والے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے نمائندے کو کوریج سے روک کر واپس بلا لیا گیا ہے۔ این بی سی کے نمائندے ایمن محی الدین کو کوریج سے روکنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس خطے میں اس کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

نیوز چینل کی طرف سے اپنے نمائندے کو اچانک واپس بلانے کا اقدام ان چار فلسطینی بچوں کی شہادت کی کوریج کے فوری بعد کیا گیا ہے جنہیں اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحلی علاقے میں فٹ بال کھیلتے ہوئے شہید کیا تھا۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے وابستہ سابق جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کے ساتھ کام کرنے والے ''گلین گرین والڈ '' کے مطابق امریکی چینل کا یہ فیصلہ چار فلسطینی بچوں کی کھیلتے ہوئے ہلاکت کی طوفان انگیز خبر سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔

تاہم معلوم ہوا ہے کہ غزہ کی کوریج سے ہٹائے جانے والے نمائندہ کے فوری بعد این بی سی نے اپنے ایک انتہائی سینئیر نمائندے کو اس کے باوجود اس خطے کے لیے تعینات کر دیا ہے کہ وہ عربی زبان سے کلی طور پر نابلد ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی غزہ بھی نہیں آیا تھا۔
گرین والڈ کے مطابق ایمن محی الدین کو ہٹائے جانے کی اصل وجہ اس اسرائیلی حملوں کی جامع کوریج بنی ہے کہ اس پر اسرائیل کی حامی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو ناراضگی ہو گئی۔ گرین والڈ کے بقول محی الدین اسرائیل اور غزہ کے تازہ تنازعے کی پچھلے دو ہفتوں سے بڑی متوازن رپورٹنگ کر رہا تھا۔

لیکن اس کی متوازن کوریج کی وجہ سے اسرائیلی ویب سائٹس نے اسے حماس کا ترجمان لکھنا شروع کر دیا ، تاکہ اس این بی سی کی طرف سے کوریج سے ہٹایا جا سکے۔

امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار'' بالٹی مور سن'' میں لکھنے والے الیکٹرانک میڈیا کے ناقد ''ڈیوڈ زراوک ''نے این بی سی کے اس فیصلے پر کہا ہے اسے انتظار رہے گا کہ این بی سی اپنے نمائندے کے لیے خطرے کو کس طرح ثابت کرتا ہے۔

''سکاٹ وائٹ لاک نامی'' ایک تجزیہ کار نے اس بارے میں کہا ہے ہو سکتا ہے کہ مذکورہ رپورٹر نے اپنی فیس بک پر منفی تبصرہ کیا ہو اور بعد ازاں اسے خذف کر دیا گیا ہو۔

واضح رہے امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان چار فلسچینی بچوں کی شہادت پر صرف یہ کہا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری بالآخر حماس پر ہی عاید ہوتی ہے کیونکہ حماس نے جنگ بندی قبول نہیں کی ہے۔

ایک امریکی نیوز بلاگ میں کہا گیا ہے کہ'' این بی سی کے اس فیصلے پر اس کے اپنے سٹاف میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ محی الدین کا جرم صرف یہ ہے کہ غزہ کے ساحل سے متصل فٹبال کھیلتے چار ننھے بچوں کی ہلاکت کے وقت محی الدین اتفاق سے وہیں موجود تھا اور اس نے اس موت کو رپورٹ کیا۔

واضح رہے '' العربیہ '' کی طرف سے اس بارے میں این بی سی کا موقف جاننے کی کوشش ابھی تک ناکام ہے اور امریکی ٹی وی نے اپنا موقف نہیں دیا ہےکہ دوسال سے غزہ میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والے ایمن محی الدین کو آنا فانا کیوں نکال دیا گیا ہے۔
محی الدین جس نے 2003 سے 2006 کے درمیان بغداد میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کی تھیں ان دنوں اس علاقے میں واحد امریکی صحافی تھا۔

محی الدین کو 2011 میں ٹائم میگزین نے دنیا کی 100 موثر ترین شخصیات میں شامل کیا تھا لیکن اب اسے غزہ میں اسرائیلی بمباری کی کوریج سے روک دیا گیا ہے ۔