.

روس نے ملائشیا کا طیارہ مارگرانے کی تردید کردی

امریکی صدر اوباما کا روس نواز باغیوں پر مسافر پرواز پر میزائل داغنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقے میں ملائشیا کے مسافر طیارے کو زمین سے فضا میں مارکرنے والے میزائل کے ذریعے مارگرایا گیا ہے جبکہ روس نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ اس کی ایمرجنسی ٹیموں کو جائے حادثہ سے بدقسمت طیارے کے دو بلیک باکس مل گئے ہیں۔

صدر اوباما نے امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے ایسے شواہد ملنے کا اشارہ دیا ہے جن سے پتا چلتا ہے کہ اس طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مارگرایا گیا ہے اور اس میزائل کو یوکرین میں روس نواز علاحدگی پسندوں کے کنٹرول والے علاقے سے چھوڑا گیا تھا۔انھوں نے روسی صدر ولادی میرپوتین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کے ذمے داروں کا تعین کریں اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ واقعہ سے متعلق ابھی کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا نہیں چاہتے ہیں لیکن تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے طیارے کو خاص میزائل سے ہی تباہ کیا جاسکتا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ روس نواز علاحدگی پسندوں کے ماضی میں یوکرین میں سرکاری طیاروں پر حملوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ انھوں نے روس سے فنی تربیت پائی تھی کیونکہ وہ خاص آلات اور تربیت کے بغیر جنگی یا مسافر طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور یہ تربیت اور آلات روس کی جانب سے آرہے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے قبل ازیں جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ '' 17 جولائی کو رشین فیڈریشن کی مسلح افواج کا فضائی دفاعی نظام علاقے میں کام نہیں کررہا تھا اور دونتسک کے علاقے میں روسی فضائیہ کے طیاروں نے کوئی پروازیں نہیں کی تھیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام معلومات مکمل تصدیق کے بعد جاری کی جارہی ہیں۔وزارت دفاع نے مسافر طیارے کی تباہی میں یوکرین کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے کہا ہے کہ '' علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج کے یونٹ موجود تھے اور وہ طیارہ شکن میزائل سسٹمز بَک ایم 1 سے مسلح تھے''۔

وزارت دفاع کے مطابق :''بَک ایم 1 نظام 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اپنے فضائی اہداف کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تیس کلومیٹر کے فاصلے پر فضا میں ان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔مزید برآں دونتسک کے علاقے کی فضائی حدود میں یوکرین کی فضائیہ کے مختلف اقسام کے میزائلوں سے لیس طیارے اڑتے رہتے ہیں اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے''۔

دوسری جانب یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے اطلاعاتی مرکز کے ترجمان آندرے لیسنکو کا کہنا ہے کہ ملائشیا کا مسافر طیارہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام کی رینج میں نہیں تھا اور حادثے کے وقت یوکرین کے جنگی طیارے بھی فضا میں پرواز نہیں کررہے تھے۔

اقوام متحدہ میں متعین یوکرینی سفیر یوری سرگیف نے جمعرات کو ایک انٹرویو میں روس کو ملائشیا کے مسافر طیارے کی تباہی کا ذمے دار ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس نے علاحدگی پسندوں کو میزائل نظام نہ دیا ہوتا تو یہ حادثہ بھی پیش نہ آتا۔

وہ روسی صدر ولادی میر پوتین کے ایک بیان کا جواب دے رہے تھے جس مِیں انھوں نے یوکرین کو اس الم ناک واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جانے والے ملائشیا کے طیارے کو یوکرین کی فضائی حدود میں مارگرایا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام دوسو تراسی مسافر اور عملے کے پندرہ ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے مسافر طیارے کی تباہی اور روس کی جانب سے یوکرین کے علاحدگی پسندوں کو جدید ہتھیار مہیا کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے یوکرینی باغیوں پر مسافر پرواز ایم ایچ 17 کو مارگرانے کے شُبے کے پیش نظر واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔