.

حماس، اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کرے: ایران

تہران ماضی میں اسرائیل ۔ فلسطین براہ مذاکرات کا مخالف رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کریملن کے ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے روسی ہم مںصب ولادی میر پوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں دونوں رہنماوں نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جمعہ کے روز زمینی حملے کے وقت ہوئی۔

اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں کے درمیان فون پر گفتگو ایران سے صدر روحانی کی کال کے جواب میں ہوئی کیونکہ غزہ پر اسرائیل کے زمینی حملے سے صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور ایران کو خدشہ ہے کہ اگر اس وقت معاملے کو حل نہ کیا گیا تو اس میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

دونوں رہنماوں نے فوجی تناو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کی جانب سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کال ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ یہ بات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایران کے علانیہ موقف سے کسی طور میل نہیں کھاتی۔ ایران ماضی میں اسرائیل سے مذاکرات کا مخالف رہا ہے اور اسی کسی بھی کوشش کو فلسطینیوں کے حقوق کی سودے بازی سمجھتا ہے۔