سیز فائر کے لئے سیسی پر اعتماد نہ کیا جائے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ایک "غیر قانونی آمر" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "اسرائیل سے جنگ بندی مذاکرات کے لئے قاہرہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔"

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا: "کیا سیسی سیز فائر کے لئے ایک فریق ہیں؟ وہ تو خود ایک آمر ہے۔ وہ دوسروں سے مختلف نہیں بلکہ یہ مصری حکمران ہی ہیں جو غزہ کو انسانی امداد فراہمی کے راستے بند کیے بیٹھے ہیں۔"

ادھر مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے مسٹر ایردوآن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں "ناقابل قبول" قرار دیا۔

قاہرہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سامح شکری نے کہا: "ان بیانات کا غزہ میں ہونے والے واقعات سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان سے اہالیاں غزہ کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اس کے بجائے ایردوآن کو جنگ کے متعلقہ فریقوں کو فائر بندی پر آمادہ کرنا چاہیے۔"

انقرہ اور قاہرہ کے درمیان سفارتی تعلقات گذشتہ برس جولائی میں اسلام پسند صدر محمد مرسی کو مصری فوج کی جانب سے معزول کئے جانے کے بعد سے انتہائی تنائو کا شکار ہیں۔ اس معاملے میں اہم موڑ اس وقت آیا تھا جب نومبر میں مصری حکومت نے مرسی کی حمایت پر ترک سفیر ملک بدر کر دیا۔

رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ سیز فائر کے لئے پیش کئے جانے والے مصری معاہدے کو ماننے کا مطلب مصری انتظامیہ کو باضابطہ طور پر قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہو گا۔

ایردوآن کے مطابق: "مصر اس معاملے میں فریق نہی بلکہ قاہرہ جنگ بندی کے سلسلے میں قاہرہ کے ہر اقدام کا مقصد سیسی کے اقتدار کو قانونی حیثیت دلوانا ہے۔ یہ قانونی بلکہ غیر قانونی انتظامیہ ہے۔" ایردوآن نے جنگ بندی کی کوششوں سے حماس کو باہر رکھنے کی اسرائیلی کوششوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا حماس اس سارے قضیے کا اہم فریق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں