سرحدی چوکی پر حملے میں 21 مصری فوجی ہلاک

حملہ لیبی سرحد کے قریب الفرافرہ کے علاقے میں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے مغربی صحراء میں لیبیا کے قریب ایک سرحدی چوکی پر ہفتے کے روز نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 21 مصری فوجی ہلاک ہو گئے۔ مصر کے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام پسند صدر محمد مرسی کی حکومت خاتمے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف یہ سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔

یہ حملہ مصر کے مغربی صحرا میں وادی الجدید گورنری میں الفرافرہ نخلستان روڈ پر ہوا۔ یہ علاقہ قاہرہ سے 627 کلومیٹر دور لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

فوجی حکام نے بتایا کہ سرحدی چیک پوائنٹ پر اچانک حملہ کرنے والے تین نامعلوم مسلح افراد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا ہے۔

کم سے کم بیس سمگلروں نے حملے میں مشین گنیں اور راکٹ سے چلنے والے گرینڈ استعمال کئے جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش بڑھتے ہوئے چینلجز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رائیٹرز کے مطابق حکام کا خیال ہے کہ اسلامی عسکریت پسند اسلحہ ایک جگہ سے دوسری علاقے میں منتقل کر رہے ہیں۔

قبائلی سمگلروں نے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ وہ صحرائی راستوں میں گاڑیوں کے ذریعے اسلحہ مصری کامریڈز تک پہنچانے کے لئے 140،000 ڈالرز وصول کرتے ہیں۔ یاد رہے مصر کو اسرائیل کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقے جزیزہ سیناء میں اسلامی بغاوت کا سامنا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے لیبیا میں افراتفری پیدا کرنے والے جنگجووں کے سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے قاہرہ حکومت کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

لیبی حکام ایک عرصے سے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مسائل کے بارے میں آگاہ ہیں اور وہ ان پر قابو پانے کے لئے مصری حکام سے تعاون کرتے رہتے ہیں۔

تاہم سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ لیبی سرحد کے ساتھ ٹھکانے بنانے والے جنگجووں کے عزائم داعش کے ہم پلہ ہیں، وہ صدر سیسی کا تختہ الٹ کر مصر میں اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں