طرابلس ائیر پورٹ پر قبضے کے لئے شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں بر سر پیکار اسلام پسند ملیشیا نے دو دن قبل حریف ملیشیا سے طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ ختم کرتے ہوئے ایک بار پھر طرابلس کے بڑے ائیر پورٹ پر حملہ کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے ائیر پورٹ اہلکار الجیلانی الدھیش کے حوالے سے بتایا کہ "ہوائی اڈے پر صبح کے وقت مارٹر کے گولوں، راکٹوں اور ٹینکوں سے حملہ کیا گیا تھا۔"

ان کے مطابق یہ اب تک کی سب سے شدید بمباری ہے۔ اس بمباری کے نتیجے میں رن وے پر کھڑے ایک جہاز میں اگ لگ گئی تھی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ائیر لائن کی جانب سے طیارے کی تصویر جاری کر دی گئی جبکہ ائیر پورٹ سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ائیر پورٹ کے قریبی علاقے میں بہت شدید لڑائیاں ہو رہی ہیں اور انہوں نے ٹینکوں کو بھی جنگ میں حصہ لیتے دیکھا ہے۔

طرابلس ائیر پورٹ اتوار کے روز اسلام پسند جنگجوئوں کے حملے کے بعد سے پہلے ہی بند تھا۔ اسلام پسند جنگجوئوں نے اتوار کے روز طرابلس ائیر پورٹ پر حملہ کیا تھا کہ تاکہ وہ اسے زنتانی باغیوں کے قبضے سے چھڑوا کر خود اس پر قبضہ کرلیں۔

اس لڑائی کے نتیجے میں طیاروں اور ائیر پورٹ کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ ائیر پورٹ کو کئی ماہ تک بند رکھیں تا کہ تعمیر نو مکمل ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں