فلوریڈا: مچھلی کا شوقین خود 'شکار' ہوتے ہوتے بچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سمندر میں موجود دیو ہیکل مچھلیوں کا شکار شوق ہی نہیں بلکہ یہ ایک پیشہ بھی ہے۔ اس لیے مچھلی کا شکار کوئی خبر نہیں۔ خبر یہ ہے کہ یہاں مچھلی نے اپنے شکاری کو شکار کر لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو فوٹیج تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جس میں ایک مچھلی کھانے کے شوقین ایک نامعلوم شخص اور مچھلی کے درمیان خونی کشمکش کا حیرت انگیز منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو فوٹیج کسی فلم کا خیالی 'سین' نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے جو امریکی ریاست فلوریڈا میں اسلامورادا کے مقام پر حال ہی میں پیش آیا۔

جگہ کے نام میں 'اسلام' کے لفظ سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس مرکب کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مقامی زبان میں "ایسلا" اور "مورادا" دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ ایسلا کا مطلب جزیرہ اور مورادا کا مطلب مونگا [مرجان] یا سمندر کا ایک قیمتی پتھر لیا جاتا ہے۔ ریاست فلوریڈا میں یہ ایک پکنک پوائنٹ ہے جہاں دور دور سے سیاح سیر تفریح کو آتے ہیں۔

"ایسلامورادا" کی سیرگاہ میں ایک شخص کو "الطربون" نامی مچھلی کو پکڑے اور دبوچنے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے، لیکن مچھلی نے اپنی پوری قوت مجتمع کر کے شکاری پر بھرپور وار کیا اور اس کا ہاتھ اپنے جبڑوں میں لے کر اسے شدید زخمی کیا۔ شکاری کو اب مچھلی کی نہیں اپنی جان کی فکر لاحق تھی۔

قریب ہی موجود دو خواتین یہ منظر دیکھ چلا اٹھیں جس کے بعد سیرگاہ پر موجود رضا کاروں کی مداخلت سے شکاری کی جان بچی۔ مچھلی کا وار کامیاب رہا اور وہ اپنے شکاری کا ہاتھ شدید زخمی کرنے کے بعد واپس پانی میں لوٹ گئی۔ یہ حیرت انگیز منظر ایک دوسرے شخص نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا جسے اب انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ "الطربون" نامی مچھلی اپنی جسامت کے اعتبار سے کافی بڑی اور صحت مند ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس کا وزن 100 پاؤنڈ تک بھی ہوتا ہے، اس لیے اسے با آسانی شکار نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں