اسرائیل کی غزہ میں اپنے فوجی کی گرفتاری کی تردید

حماس کے ہاتھوں کوئی فوجی اغوا نہیں ہوا: اسرائیلی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ران پرازر نے غزہ پر حملوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی کے حماس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کی خبروں کی صحت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہں آیا ہے۔

اس سے پہلے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک ٹی وی نشریے میں یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک حملہ آور اسرائیلی فوجی کو شجاعیہ پر حملے کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا '' کسی اسرائیلی فوجی کو پکڑا نہیں جا سکا ہے، اس حوالے سے افواہیں غلط ہیں۔'' اسرائیلی سفیر نے یہ بات سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر رپورٹرز سے کہی ہے۔

واضح رہے القسام کی طرف سے اسرائیلی فوجی کے پکڑے جانے پر فلسطینیوں میں غیر معمولی خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی جبکہ اسرائیل کے زمین پر لڑنے والے فوجیوں کے لیے یہ خبر حوصلہ شکنی کا باعث بنی تھی۔

القسام نے اتوار کے روز غزہ شہر کے مشرقی مضافات میں اسرائیلی فوجیوں پر ایک حملہ کیا تھا جس کے بعد شول ایرون نامی فوجی کی گرفتاری کی خبر پھیل گئی۔

اس پر القسام کے نمائندے ابو عبیدہ نے بتایا تھا '' ہم نے ایک اسرائیلی فوج کو قابو کیا کر لیا ہے، یہ فوجی جس کا نام شول ایرون ہے القسام کے پاس پے۔''

واضح رہے اس سے پہلے ایک اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو بھی اس عسکری ونگ نے 2006 میں گرفتار کر لیا تھا جسے بعد ازاں 2011 میں 1027 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں رہا کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں