.

ایران نے حساس جوہری مواد کو ٹھکانے لگا دیا

20 فی صد افزودہ یورینیم کو غیر ضرررساں شکل میں تبدیل کردیا:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنی بیس فی صد افزودہ یورینیم کو چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ عبوری سمجھوتے کے تحت غیر ضرررساں شکلوں میں تبدیل کردیا ہے۔یہ بات اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

ایران نے گذشتہ سال نومبر میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے عبوری سمجھوتے کے تحت اپنی بیس فی صد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تبدیل کرنے یا اس سے کم تر بنانے سے اتفاق کیا تھا۔اس وقت ایران کے پاس دوسو کلوگرام سے زیادہ بیس فی صد افزودہ یورینیم موجود تھی اور یہ مقدار ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے کافی ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس تمام مقدار کو تبدیل کردیا گیا ہے یا اس کو کم تر درجے کی بنا دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی تمام دیگر ذمے داریوں کو بھی پورا کررہا ہے۔واضح رہے کہ بیس فی صد افزودہ یورینیم کو فوری طور پر ایک جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ایران اس بات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

ایران جوہری پروگرام کی وجہ سے اپنی معیشت پر عاید پابندیوں کے خاتمے کے لیے چھے بڑی طاقتوں (امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،روس ،چین اور جرمنی) کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی اس سے یورینیم افزودگی سے متعلق تمام سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر ہی ان میں اختلافات پائے جارہے ہیں۔

ایران حال ہی میں آیندہ آٹھ سال کے دوران یورینیم افزودگی کے پروگرام کو وسعت دینے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔اس کے لیے اسے ایک لاکھ نوّے ہزار سینٹری فیوجز مشینیں درکار ہوں گی لیکن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے پاس دوہزار سے زیادہ سینٹری فیوجز مشینوں کے حق میں نہیں ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے حتمی جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات میں چار ماہ کی توسیع سے اتفاق کیا تھا۔اگر یہ معاہدہ طے پاجاتا ہے تو پھر ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید رول بیک کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی پابندیوں کا بتدریج خاتمہ ہو جائے گا۔