غزہ میں جنگ بندی پر توجہ مرکوز کی جائے:اوباما

فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی زندگیوں کے ''ضیاع'' پراظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما کو بالآخر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگ کو بند کرانے کا خیال آ ہی گیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ دنیا کو فلسطین،اسرائیلی تنازعے میں جنگ بندی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ وہاں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو روکا جاسکے۔

امریکی صدر نے سوموار کو وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل کو حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر انھیں تشویش لاحق ہے۔

انھوں نے کہا:''جیسا کہ میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں،اسرائیل کو حماس کے راکٹ اور سرنگ حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔اسرائیل نے اپنی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں حماس کے دہشت گردی کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا دیا ہے''۔یوں امریکی صدر نے حماس کے ڈھانچے کو توڑنے کے نام پر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کی حمایت کی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ''ہمیں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے اور اسرائیلی زندگیوں کے نقصان پر تشویش لاحق ہے۔اس لیے اب ہمیں اور عالمی برادری کو جنگ بندی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں لڑائی کا خاتمہ ہو اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں بند ہوسکیں''۔

اسرائیل کی غزہ کی پٹی میں گذشتہ چودہ روز سے جاری فوجی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم سے کم ساڑھے پانچ سو ہو چکی ہے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں پچیس صہیونی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

غزہ پر گذشتہ جمعرات سے صہیونی فوج کی زمینی چڑھائی کے بعد فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ دوبدو لڑائی میں جارح فوج کی ہلاکتوں کی تعداد بھی روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ تیرہ فوجی صرف اتوار کو ہلاک ہوئے تھے اور 2006ء میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے بعد ایک دن میں اسرائیلی فوج کا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔ان کے علاوہ دو عام یہودی راکٹ حملوں میں مارے گئے ہیں۔

ان صہیونیوں کے مرنے کے بعد ہی امریکی صدر جنگ بندی پر اصرار کررہے ہیں،وگرنہ پہلے تو وہ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کو جائز ہی قرار دیتے چلے آرہے تھے اور انھوں نے اپنے وزیرخارجہ جان کیری کو جنگ بندی کے لیے کوششوں کے ضمن میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ بھیجا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں